Bharat Express DD Free Dish

CM Mamata banerjee

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے انتخابی مہم پیر کی شام 6 بجے اختتام پذیر ہو گئی، جس کے ساتھ ہی 48 گھنٹوں کا سائلنس پیریڈ نافذ ہو گیا ہے۔ اب 29 اپریل کو ریاست کی 142 اسمبلی نشستوں پر سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ ہوگی، جس میں لاکھوں ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ہر شعبے میں ممتا بنرجی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسائل اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت صرف بی جے پی کے پاس ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 15 برس قبل ٹی ایم سی ”ماں، ماٹی اور مانُش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن آج اس نعرے کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ان کی ناکامی اور بدعنوانی بے نقاب ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ماں کو رونے پر مجبور کیا، ماٹی کو سنڈیکیٹ اور دراندازوں کے حوالے کر دیا اور مانُش کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ووٹروں کی بڑی تعداد دیکھ کر ٹی ایم سی کے لیڈر حیران اور پریشان ہیں کیونکہ انہیں اتنی بڑی شرکت کی توقع نہیں تھی۔ مودی کے مطابق ریاستی حکومت نے اپنے کرتوتوں سے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے، جس کے باعث لوگ آئے دن عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد بڑا سیاسی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے داخلی اندازوں کے مطابق پہلے مرحلے کی 152 نشستوں میں سے بی جے پی 110 سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے قبل اہم سیاسی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی، کیرلم میں کانگریس اور تمل ناڈو میں ایم کے اسٹالن کامیابی حاصل کریں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد بی جے پی کو مرکزی ہدف بنانا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنی تقاریر میں اسی حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ان کے بیانات کا بڑا حصہ بی جے پی کے خلاف رہا، جبکہ ترنمول کانگریس پر محض رسمی تنقید کی گئی۔

انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ بنگال کی عوام طویل عرصے سے مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور اب وہ تبدیلی کے لیے ووٹ دے گی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں ممتا بنرجی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "میں دیدی کو کہنے آیا ہوں، دیدی ٹاٹا، بائے بائے، اب آپ کا وقت ختم ہونے والا ہے"۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ الیکشن صرف حکومت بدلنے کا نہیں بلکہ بنگال کی خواتین کو محفوظ بنانے کا انتخاب ہے۔ انہوں نے سندیش کھالی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت بنی تو تمام مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور قانون کی حکمرانی قائم کی جائے گی۔