Bharat Express DD Free Dish

CM Mamata banerjee

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یو سی سی کے حوالے سے ممتا بنرجی کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ آئین کی روح کے مطابق ایک ضروری قدم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں قوانین مذہب کی بنیاد پر ہونے چاہئیں یا پھر سبھی شہریوں کے لیے برابر ہونے چاہئیں۔

وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کے شہر سلی گڑی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کہا کہ اگر کوئی مغربی بنگال کا اصل مزاج دیکھنا چاہتا ہے تو اسے سلی گڑی ضرور آنا چاہیے، کیونکہ یہاں کے عوام کے دل و دماغ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے زبردست حمایت نظر آ رہی ہے۔

اپنے بیان میں روپالی گنگولی نے کہا کہ وہ روزانہ درگا ماتا سے پرارتھنا کرتی ہیں کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو اور ریاست میں مثبت تبدیلی آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے دورِ حکومت میں عام لوگوں، خاص طور پر ہندو خاندانوں کو مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد تمام سرکاری ملازمین کو مہنگائی بھتہ فراہم کیا جائے گا اور 45 دن کے اندر ساتواں پے کمیشن نافذ کر دیا جائے گا تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اپنے خطاب میں امت شاہ نے کہا کہ بنگال میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور اگر بی جے پی کو اقتدار ملا تو ایسے تمام عناصر کی شناخت کر کے انہیں ریاست سے باہر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی کو موقع دیں، ہم سنڈیکیٹ چلانے والوں کو الٹا لٹکا دیں گے اور قانون کی بالادستی قائم کریں گے“۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ”سونار بنگلہ“ کے قیام کا ایک جامع روڈمیپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا مقصد ریاست کو بدعنوانی، بے روزگاری اور مبینہ بدامنی سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ممتا بنرجی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ماں، ماٹی اور مانوش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ ان کے مطابق ریاست کے نوجوان آج بھی بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ خواتین کی سلامتی اور کسانوں کی حالت پر بھی سوالیہ نشان قائم ہے۔

وزیر اعظم نے اس ریلی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جس میں جلسہ گاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی نظر آ رہی تھی۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ان کی آمد سے پہلے ہی بڑی تعداد میں جمع ہو چکے تھے اور پورا میدان نعروں اور جوش سے گونج رہا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بیر بھوم کے عوام کا جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگال کا مزاج کس سمت میں جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اور 4 مئی کے بعد بنگال ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

وزیر اعظم نریندرمودی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی حکومت پر"سنڈیکیٹ راج" اور"کٹ منی" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بنگال کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بنگال میں بھی تبدیلی اورترقی کا وعدہ کیا۔