Bharat Express DD Free Dish

CM Mamata banerjee

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے رجحان کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کارکنان نے کہا کہ نوجوان طبقہ بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلیے، جیت پکی کیجئے"، جس پر وہاں موجود کارکنان نے پرجوش نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ اس غیر رسمی گفتگو نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا اور کارکنان میں نیا جوش پیدا ہوا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کوچ بہار کی ریلی عوام کے بدلتے ہوئے مزاج کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹی ایم سی کے دور حکومت میں سنڈیکیٹ راج اور بدعنوانی کا خوف ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ترقی اور شفاف حکمرانی کا وعدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لوگوں کو اپنی جائیداد اور کاروبار کے تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل تقریباً ایک ہزار افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ ان میں 832 افراد براہ راست ترنمول کانگریس سے وابستہ تھے جبکہ 144 افراد کو پارٹی کے حامیوں کے طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت پر الیکشن کمیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل اس نوعیت کی تعیناتی انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے کانگریس پارٹی نے ’سولو‘ حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ اتحاد کی سیاست کو نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی نے تمام 294 نشستوں پر اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔

ترنمول کانگریس میں رہے مشہور ٹینس اسٹار لینڈرپیس اب بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب لینڈر پیس مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے لئے انتخابی تشہیر کرتے ہوئے نظرآئیں گے۔ اس دوران لینڈرپیس نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک والدین اور فیملی کے نام کو بڑا کرنے کا کام کیا تھا، لیکن اب اس کے بعد انہیں ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔

بنگال الیکشن سے متعلق اکھلیش یادو نے بی جے پی پربڑا حملہ بولا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی بنگال بری طرح سے ہار رہی ہے۔ وہاں دیدی ہیں، دیدی رہیں گی۔ یہ تبادلے نہیں، انتخابی ہیرا پھیری ہے۔ بنگال میں بی جے پی کا منہ میٹھا نہیں ہوگا۔

کانگریس نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے 284 امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔ پارٹی نے مجموعی طور پر 294 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ بقیہ نشستوں کے لیے جلد ناموں کا اعلان متوقع ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایک بار پھر بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر بی جے پی ریاست میں اقتدار میں آئی تو نان ویج کھانے پر پابندی لگ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مچھلی سمیت دیگر گوشت والی اشیاء پر بھی قدغن لگانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

مغربی بنگال کی 50 سے زائد اسمبلی نشستوں پر ہندی بولنے والے ووٹر ہار جیت کے فرق کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی نے بہار کے 100 سے زیادہ لیڈروں کو بنگال میں تعینات کیا ہے، جن میں منگل پانڈے اور نتن نوین نمایاں ہیں۔