Bharat Express DD Free Dish

CM Mamata banerjee

مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بار پھر گرماہٹ پیدا ہونے والی ہے، کیونکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 28 مارچ کو کلکتہ کا دورہ کرنے جا رہے ہیں، جہاں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

مغربی بنگال میں اویسی اور ہمایوں کبیر کے اتحاد سے TMC کے M+M فارمولا کو چیلنج مل سکتا ہے۔ جانئے مسلم ووٹ بینک پر کیا اثر پڑے گا۔

رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست میں بڑا انتخابی اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس پر سخت تنقید کی ہے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ ممتا بنرجی نے مسلمانوں کے ووٹ تو حاصل کیے، لیکن ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور ان کی سیاست ہی کی وجہ سے بی جے پی کو ریاست میں مضبوط ہونے کا موقع ملا۔

مغربی بنگال میں عید الفطرکے جشن کے درمیان سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ شوبھیندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی پر خوشنودی کی سیاست کا الزام لگایا، جس پرابھیشیک بنرجی نے سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا حوالہ دیا۔ شوبھندوادھیکاری نے ممتا بنرجی کو40,000 ووٹوں سے شکست دینے کا دعویٰ کیا۔

مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے لئے بی جے پی نے 111 امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کردی ہے۔ پارٹی نے بشن پوراسمبلی سیٹ سے امیدوار تبدیل کردیا ہے۔ اس کے علاوہ جائے پور سے ایک ایسے امیدوارکا نام بی جے پی نے اپنی فہرست میں جاری کیا ہے، جس کو بی جے پی حمایت کررہی ہے۔ پارٹی نے روپا گانگولی کو سونارپور ساوتھ (جنوب)) سے ٹکٹ دیا ہے۔

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے منگل کو اسمبلی انتخابات کے لیے 291 اُمیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کر دی ہے۔ ممتا بنرجی نے کالی گھاٹ میں پارٹی کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا اور کہا کہ پارٹی 226 سے زیادہ سیٹوں پر جیت حاصل کرے گی۔ ممتا بنرجی خود بھوانی پور سے انتخاب لڑیں گی۔

کانگریس کے لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اتحاد سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں کانگریس کو اتحاد کرنا چاہیے اور صحیح عددی حساب کے مطابق اتحاد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات آٹھ مراحل میں ہوئے تھے۔ یہ انتخابات اس لیے طویل تھے کیونکہ ریاست میں 294 نشستیں ہیں اور سکیورٹی، قانون و نظم، اور بڑے ووٹر بیس کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی کمیشن نے انہیں آٹھ مراحل میں کرایا تھا۔

پانچ ریاستوں میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے آج مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں انتخابات کا مکمل شیڈول جاری کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ مغربی بنگال کو چھوڑ کر باقی چار ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں ہوگی۔

مغربی بنگال میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے آج الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گا۔ چیف الیکشن کمشنر آج شام 4 بجے اس سلسلے میں پریس کانفرنس کریں گے۔ اس بار چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقے میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔