جب ان سے سوال کیا گیا کہ بنگال میں کانگریس کے اکیلے الیکشن لڑنے کی بات ہو رہی ہے، کیا مل کر لڑنا یا اتحاد کے ساتھ میدان میں اترنا بہتر ہے؟ اس پر صحافی کے سوال کاجواب دیتے ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا، “یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ بنگال میں اتحاد ہونا چاہیے۔ لیکن کئی وجوہات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے اتحاد نہیں ہو پاتے۔ یہ فیصلہ میرا یا چند لیڈروں کا نہیں ہو سکتا۔ کانگریس میں تین چار لوگ مل کر اس طرح کے فیصلے کرتے ہیں۔”
اتحاد کے سوا کوئی دوسرا متبادل نہیں
انہوں نے مزید کہا، “میرا ماننا ہے کہ انتخابات کا وقت قریب آ چکا ہے، اس لیے درست عددی حساب کے مطابق اتحاد کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ میں دوبارہ کہوں گا کہ یہ میرا ذاتی نظریہ ہے۔” اسی دوران سنگھوی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا، “مغربی بنگال میں اگر کوئی ایسا لیڈر ہے جو عوام کے دل و دماغ میں بس چکا ہے تو وہ ممتا بنرجی ہیں۔ ان کی رگوں میں بنگال کی ثقافت اور وراثت دوڑتی ہے۔” کانگریس لیڈر نے کہا کہ ممتا بنرجی میں بے پناہ توانائی، طاقت، سمت اور رفتار ہے۔ وہ بنگال کی نبض کو سمجھتی ہیں۔ بھارت کے لیڈروں میں، خاص طور پر خواتین لیڈروں میں، ان سے بہتر سیاست شاید ہی کوئی کر سکے۔
بی جے پی کی انتخابی مہم پر ابھیشیک منو سنگھوی کا ردعمل
بی جے پی کی انتخابی مہم کے بارے میں بھی ابھیشیک منو سنگھوی نے ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا، “میرا ماننا ہے کہ بی جے پی صرف ایک ماحول بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، لیکن یہ سمجھ لینا کہ بی جے پی کے لیے اب صحیح وقت آ گیا ہے، بالکل درست نہیں ہے۔”انہوں نے کہا، “شور شرابہ اور ہنگامہ ہوگا، جیسا پچھلی بار کیا گیا تھا۔ اس وقت ایسا ماحول بنا دیا گیا تھا کہ بی جے پی جیت رہی ہے اور 202، 225 اور 250 جیسی تعداد بتائی جا رہی تھی۔ لوگوں کو بھی لگنے لگا تھا کہ بنگال میں بی جے پی بڑی جیت حاصل کرنے جا رہی ہے، لیکن آخرکار ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا’ والی کہاوت سچ ثابت ہوئی۔ اس لیے بنگال کے عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، یہ بی جے پی کی محض شور مچانے کی حکمت عملی ہے۔”انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگال میں پیسے کا بے جا استعمال بھی ہوگا اور یہ تقریباً یقینی ہے۔ اس معاملے میں دوسری جماعتوں کے مقابلے بی جے پی بہت آگے ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی نے اپنی تنظیمی ساخت کو بھی مکمل طور پر بدل دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




