Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Election

دوسری جانب سویندو ادھیکاری نے بھوانی پور سیٹ جیتنے کے بعد کہا کہ ممتا بنرجی کو شکست دینا بے حد ضروری تھا۔ ان کے مطابق یہ بنرجی کی سیاست کے خاتمے کا اشارہ ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہاں اسمبلی کی کل 294 نشستیں ہیں، تاہم 293 سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ دو مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تقریباً 92 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ووٹوں کی گنتی کے آبزرور (مبصر) تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ ڈی ای او کا نوٹس تاخیر سے موصول ہوا اور ہر بوتھ پربے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو افسریا اہلکار منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کے روز مغربی بنگال کے دم دم اور جادوپور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ وہ صبح تقریباً 11:30 بجے دم دم پہنچیں گے جہاں ایک بڑی ریلی سے خطاب کریں گے، جس کے بعد دوپہر 1 بجے جادوپور میں دوسری ریلی منعقد ہوگی۔

وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ دوپہر کا وقت ہے، دھوپ تیز ہے، لیکن اس کے باوجود مغربی بنگال کے عوام کا جوش دیدنی ہے۔ انہوں نے کمل کے انتخابی نشان کا ذکر کرتے ہوئے ریاست بھر میں عوامی حمایت کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ یہ جذبہ تبدیلی کی علامت ہے۔

اپنے خطاب میں امت شاہ نے کہا کہ بنگال میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور اگر بی جے پی کو اقتدار ملا تو ایسے تمام عناصر کی شناخت کر کے انہیں ریاست سے باہر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی کو موقع دیں، ہم سنڈیکیٹ چلانے والوں کو الٹا لٹکا دیں گے اور قانون کی بالادستی قائم کریں گے“۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ”سونار بنگلہ“ کے قیام کا ایک جامع روڈمیپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا مقصد ریاست کو بدعنوانی، بے روزگاری اور مبینہ بدامنی سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس موقع پر ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اشارہ دیا کہ ہمایوں کبیر کی وائرل آڈیو کلپ کے پیچھے حکمراں جماعت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممتا بنرجی اس طرح کی ہزاروں ویڈیوز تیار کروا سکتی ہیں، اس لیے اس معاملے کو حقیقت کے بجائے سیاسی چال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے اس ریلی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جس میں جلسہ گاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی نظر آ رہی تھی۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ان کی آمد سے پہلے ہی بڑی تعداد میں جمع ہو چکے تھے اور پورا میدان نعروں اور جوش سے گونج رہا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بیر بھوم کے عوام کا جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگال کا مزاج کس سمت میں جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے رجحان کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کارکنان نے کہا کہ نوجوان طبقہ بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلیے، جیت پکی کیجئے"، جس پر وہاں موجود کارکنان نے پرجوش نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ اس غیر رسمی گفتگو نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا اور کارکنان میں نیا جوش پیدا ہوا۔