West Bengal Election 2026 Second BJP Candidates List: مغربی بنگال میں بی جے پی نے جاری کی امیدواروں کی دوسری فہرست، روپا گانگولی کو بھی بنایا گیا امیدوار
مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے لئے بی جے پی نے 111 امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کردی ہے۔ پارٹی نے بشن پوراسمبلی سیٹ سے امیدوار تبدیل کردیا ہے۔ اس کے علاوہ جائے پور سے ایک ایسے امیدوارکا نام بی جے پی نے اپنی فہرست میں جاری کیا ہے، جس کو بی جے پی حمایت کررہی ہے۔ پارٹی نے روپا گانگولی کو سونارپور ساوتھ (جنوب)) سے ٹکٹ دیا ہے۔
TMC Releases Names For 291 Seats For West Bengal: ٹی ایم سی نے 291 سیٹوں پر اُمیدواروں کی لسٹ جاری کی، ممتا بنرجی بھوانی پور سے لڑیں گی انتخاب
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے منگل کو اسمبلی انتخابات کے لیے 291 اُمیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کر دی ہے۔ ممتا بنرجی نے کالی گھاٹ میں پارٹی کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا اور کہا کہ پارٹی 226 سے زیادہ سیٹوں پر جیت حاصل کرے گی۔ ممتا بنرجی خود بھوانی پور سے انتخاب لڑیں گی۔
ED Raids In West Bengal: مغربی بنگال میں ای ڈی کی کارروائی، ہاوڑہ اور سلی گوڑی سمیت 4 اضلاع کے 10 مقامات پر غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف چھاپے ماری
ای ڈی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق شواہد اکٹھا کرنے اور مالی لین دین کا پتہ لگانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس دوران دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور دیگر مواد کی جانچ بھی کی جائے گی تاکہ کال سینٹرز کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی سے متعلق معاملات کا پتا چل سکے۔
مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کا ایکشن جاری، ڈی جی پی سمیت 4 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ، کل ہٹائے گئے تھے چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری
مغربی بنگال میں الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کافی سرگرم ہے۔ منصفانہ الیکشن کو یقینی بنانے کے لئے کمیشن نے چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری کے بعد 4 سینئر پولیس افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کل اپنی پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی بنگال میں الیکشن پُرامن ہوں گے۔
There is no Leader like Mamata Banerjee: ابھیشیک منو سنگھوی بولے— “بنگال میں ممتا بنرجی جیسا لیڈر نہیں”، کانگریس کو اتحاد کرنا چاہیے
کانگریس کے لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اتحاد سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں کانگریس کو اتحاد کرنا چاہیے اور صحیح عددی حساب کے مطابق اتحاد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
West Bengal Assembly Election 2026: ٹی ایم سی کی ساکھ، بی جے پی کا چیلنج اور بائیں بازو-کانگریس کی جدوجہد، بنگال کی انتخابی جنگ میں کس کا پلڑا بھاری؟
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے۔ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی۔ جانیں ٹی ایم سی، بی جے پی، سی پی آئی (ایم) اور کانگریس کی طاقت، کمزوریاں اور انتخابی حکمتِ عملیاں۔
West Bengal Election Dates Announced: مغربی بنگال انتخابات کی تاریخوں کا اعلان، 23 اور 29 اپریل کو ہوگی ووٹنگ، 4 مئی کو آئیں گے نتائج
میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات آٹھ مراحل میں ہوئے تھے۔ یہ انتخابات اس لیے طویل تھے کیونکہ ریاست میں 294 نشستیں ہیں اور سکیورٹی، قانون و نظم، اور بڑے ووٹر بیس کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی کمیشن نے انہیں آٹھ مراحل میں کرایا تھا۔
West Bengal Assembly Elections: انتخابات کے اعلان سے پہلے ممتا بنرجی کا بڑا اعلان، مؤذن اور پجاری کو ملیں گے ماہانہ 2 ہزار روپے
مغربی بنگال میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے آج الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گا۔ چیف الیکشن کمشنر آج شام 4 بجے اس سلسلے میں پریس کانفرنس کریں گے۔ اس بار چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقے میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔
Assembly Election 2026: پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا بج گیا بگل، الیکشن کمیشن آج شام 4 بجے تاریخوں کا کرے گا اعلان، بنگال سے کیرالہ تک نظریں مرکوز
ملک میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ آج شام 4 بجے الیکشن کمیشن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گا۔ پریس کانفرنس کے ساتھ ہی ضابطۂ اخلاق نافذ ہو جائے گا۔ اس بار مغربی بنگال میں کم مرحلوں میں انتخابات ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
PM Modi Kolkata Rally: کولکاتا میں وزیر اعظم مودی کا ٹی ایم سی پر شدید حملہ، کہا- کانگریس، بائیں بازو اور اب ٹی ایم سی نے بنگال کو پیچھے دھکیلا
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ریاست کی سیاست میں برسوں سے ایک ہی طرز کی حکومتیں آتی رہی ہیں۔ پہلے کانگریس کی حکومت رہی، اس کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے اقتدار سنبھالا اور اب آل انڈیا ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ان تمام ادوار میں ترقی کی رفتار متاثر ہوئی اور ریاست بنیادی ڈھانچے کے معاملے میں پیچھے رہ گئی۔





