Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Election

لوک سبھا کے سرمائی اجلاس میں پیر کے روز ’وَندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی بحث ہوئی۔ اس دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آج ’وَندے ماترم‘ پر بحث اس لیے چاہتی تھی کیونکہ مغربی بنگال میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے بدھ کو بی جے پی کے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن میٹنگ کی، جسے آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں بڑی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ وقت سخت محنت کا ہے اور آنے والے الیکشن میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر مضبوط تیاری ضروری ہے۔

ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں بنگالی بولنے والے مہاجر مزدوروں پر مظالم ہو رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ریاست میں ووٹر لسٹ پر خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision - SIR) کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر شوبھیندو ادھیکاری نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اگر 2026 کے اسمبلی انتخابات کے بعد بھی ٹی ایم سی ریاست میں اپنا اقتدار برقرار رکھتی ہے تو مغربی بنگال میں ہندوؤں کا وجود ختم ہو جائے گا۔

ریاست میں مسلم ووٹوں کے استحصال کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے، سولنکی نے اس بات پر زور دیا کہ ہائی کورٹ سے فورٹ ولیم تک کا پورا حصہ وقف جائیداد ہے، جس سے حکمران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی حکومت فائدہ اٹھاتی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان عمران سولنکی نے کہا ’’ہم یہاں ایک بڑا اعلان کرنے آئے ہیں۔ ہم مہاراشٹر، اتر پردیش، بہار اور دہلی میں لڑے۔ بنگال میں ہم تمام سیٹوں سے لڑیں گے۔ گزشتہ پنچایتی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کو مالدہ میں 60,000، مرشد آباد میں 25,000 اور دیگر علاقوں میں 15,000 سے 18,000 ووٹ ملے تھے۔‘‘

دہلی اسمبلی انتخابات کے بعد اب مغربی بنگال میں انڈیا اتحاد کو دھچکا لگا ہے۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے جمعرات کو واضح کیا کہ ترنمول کانگریس 2026 کے اسمبلی انتخابات اکیلے ہی لڑے گی۔