مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز کولکاتہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے ہمایوں کبیر سے جڑے مبینہ اسٹنگ تنازعہ پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بی جے پی اقتدار کے لیے کسی بھی قیمت پر ”بابری مسجد بنانے والوں“ کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی اور اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو پارٹی 20 سال تک اپوزیشن میں بیٹھنا ترجیح دے گی۔ امت شاہ نے اس موقع پر ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اشارہ دیا کہ ہمایوں کبیر کی وائرل آڈیو کلپ کے پیچھے حکمراں جماعت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممتا بنرجی اس طرح کی ہزاروں ویڈیوز تیار کروا سکتی ہیں، اس لیے اس معاملے کو حقیقت کے بجائے سیاسی چال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
صحافیوں کی جانب سے جب امت شاہ سے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے تناظر میں ہمایوں کبیر اور بی جے پی کے درمیان کسی ممکنہ “ڈیل” کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمایوں کبیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں، جیسے شمالی اور جنوبی قطب، اور دونوں کا کسی بھی سطح پر اتحاد ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اپنی نظریاتی بنیادوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اقتدار کے حصول کے لیے اصولوں کو قربان کرنا اس کی پالیسی نہیں ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے لیے نظریہ اور اصول سب سے اہم ہیں، اور وہ کسی بھی ایسے اتحاد سے گریز کرے گی جو اس کے بنیادی مؤقف کے خلاف ہو۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایک روز قبل مغربی بنگال کے وزراء فرہاد حکیم اور اروپ بسواس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ہمایوں کبیر کی ایک مبینہ آڈیو کلپ جاری کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کبیر اور ان کی نئی قائم کردہ جماعت انتخابات میں بی جے پی کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مبینہ آڈیو میں ہمایوں کبیر کو ایک نامعلوم شخص سے بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جس میں وہ یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ اگر بی جے پی ہندو ووٹوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، تاکہ ترنمول کانگریس کو اقتدار سے باہر کیا جا سکے۔
آڈیو کلپ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہمایوں کبیر اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ نئی ممکنہ بی جے پی حکومت کو مکمل حمایت فراہم کریں گے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس مبینہ ٹیپ لیک کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ حکمراں ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ وہ مالی وسائل کے ذریعے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ دریں اثنا، اسدالدین اویسی کی قیادت والی جماعت اے آئی ایم آئی ایم نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مغربی بنگال میں تنہا انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے ریاست میں انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ اور پیچیدہ ہونے کا امکان ہے، جہاں مختلف جماعتیں اپنی حکمت عملیوں کو ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



