Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے دوران امت شاہ نے اپنی ریلیوں میں جن نکات کو زور و شور سے اٹھایا تھا، نئی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی انہی وعدوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اسے ”دہلی سے لکھی گئی اسکرپٹ“ قرار دے رہی ہیں، جبکہ بی جے پی اسے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل بتا رہی ہے۔

ابھیشیک بنرجی نے مغربی بنگال انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تقریباً 30 لاکھ حقیقی ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ’’انتہائی مشکل انتخابات‘‘ کا سامنا کیا اور الزام لگایا کہ سرکاری ایجنسیاں اور الیکشن کمیشن جانبدارانہ انداز میں کام کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک پوسٹ میں اشوک پنڈت نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی اور ان کے حامی مبینہ طور پر ”اینٹی انڈیا سلیپر سیل“ عناصر کے ساتھ مل کر سرگرم ہو گئے ہیں، جس کے باعث ریاست میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب سویندو ادھیکاری نے بھوانی پور سیٹ جیتنے کے بعد کہا کہ ممتا بنرجی کو شکست دینا بے حد ضروری تھا۔ ان کے مطابق یہ بنرجی کی سیاست کے خاتمے کا اشارہ ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ہر شعبے میں ممتا بنرجی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسائل اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت صرف بی جے پی کے پاس ہے۔

روڈ شو کے دوران مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول نوجوان، بزرگ اور خواتین، بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کئی افراد وزیر اعظم کے کٹ آؤٹس اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کچھ لوگ پھولوں کی مالائیں لے کر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر خواتین کی نمایاں شرکت نے سب کی توجہ حاصل کی، جن میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات بھی شامل تھیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کے روز مغربی بنگال کے دم دم اور جادوپور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ وہ صبح تقریباً 11:30 بجے دم دم پہنچیں گے جہاں ایک بڑی ریلی سے خطاب کریں گے، جس کے بعد دوپہر 1 بجے جادوپور میں دوسری ریلی منعقد ہوگی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یو سی سی کے حوالے سے ممتا بنرجی کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ آئین کی روح کے مطابق ایک ضروری قدم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں قوانین مذہب کی بنیاد پر ہونے چاہئیں یا پھر سبھی شہریوں کے لیے برابر ہونے چاہئیں۔

چندر بوس اس سے قبل بی جے پی کے ٹکٹ پر 2016 میں بھوانی پور اسمبلی سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن لڑ چکے ہیں، تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب انہوں نے اسی انتخابی میدان کے درمیان پارٹی تبدیل کر کے ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔