Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل وسیع پیمانے پر انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق وہ پہلے مرحلے کے لیے 500 سے زیادہ ریلیاں اور عوامی جلسے منعقد کرے گی، جن میں مرکزی اور ریاستی سطح کے سرکردہ لیڈر حصہ لیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی 11 بڑی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

اپنے بیان میں روپالی گنگولی نے کہا کہ وہ روزانہ درگا ماتا سے پرارتھنا کرتی ہیں کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو اور ریاست میں مثبت تبدیلی آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے دورِ حکومت میں عام لوگوں، خاص طور پر ہندو خاندانوں کو مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد تمام سرکاری ملازمین کو مہنگائی بھتہ فراہم کیا جائے گا اور 45 دن کے اندر ساتواں پے کمیشن نافذ کر دیا جائے گا تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ دوپہر کا وقت ہے، دھوپ تیز ہے، لیکن اس کے باوجود مغربی بنگال کے عوام کا جوش دیدنی ہے۔ انہوں نے کمل کے انتخابی نشان کا ذکر کرتے ہوئے ریاست بھر میں عوامی حمایت کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ یہ جذبہ تبدیلی کی علامت ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس موقع پر ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اشارہ دیا کہ ہمایوں کبیر کی وائرل آڈیو کلپ کے پیچھے حکمراں جماعت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممتا بنرجی اس طرح کی ہزاروں ویڈیوز تیار کروا سکتی ہیں، اس لیے اس معاملے کو حقیقت کے بجائے سیاسی چال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے رجحان کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کارکنان نے کہا کہ نوجوان طبقہ بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلیے، جیت پکی کیجئے"، جس پر وہاں موجود کارکنان نے پرجوش نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ اس غیر رسمی گفتگو نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا اور کارکنان میں نیا جوش پیدا ہوا۔

حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل تقریباً ایک ہزار افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ ان میں 832 افراد براہ راست ترنمول کانگریس سے وابستہ تھے جبکہ 144 افراد کو پارٹی کے حامیوں کے طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت پر الیکشن کمیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل اس نوعیت کی تعیناتی انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

کانگریس نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے 284 امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔ پارٹی نے مجموعی طور پر 294 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ بقیہ نشستوں کے لیے جلد ناموں کا اعلان متوقع ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ریاست کی سیاست میں برسوں سے ایک ہی طرز کی حکومتیں آتی رہی ہیں۔ پہلے کانگریس کی حکومت رہی، اس کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے اقتدار سنبھالا اور اب آل انڈیا ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ان تمام ادوار میں ترقی کی رفتار متاثر ہوئی اور ریاست بنیادی ڈھانچے کے معاملے میں پیچھے رہ گئی۔

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال میں مبینہ طور پر ”مہاجنگل راج“ قائم کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں قانون کی حکمرانی بحال ہوگی اور جو بھی قانون توڑے گا یا ظلم کرے گا اسے کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔