Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Election 2026

جماعت اسلامی ہند نے مغربی بنگال میں انتخابی عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، کمزور طبقات کوحق رائے دہی سے محروم کئے جانے اورسرکاری مشینری کے غلط استعمال کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیزبیانیے نے سماج کے جمہوری ماحول کوخراب کیا اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔

بنگال میں بی جے پی کی پہلی بار حکومت بننے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی کے سب سے مضبوط قلعہ پرقبضہ کیا ہے۔ یہ جیت بی جے پی کے لئے صرف ایک ریاست کی جیت نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے ایک بڑے خواب کو بھی مکمل کیا ہے۔ بی جے پی نے تقریباً 200 سیٹوں پر جیت حاصل کرلی ہے۔ اس طرح سے ممتا بنرجی کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے۔

ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔

مغربی بنگال میں الیکشن کے نتائج کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اس دوران ٹی ایم سی نے الیکشن کمیشن پر بڑا الزام لگایا ہے۔ ممتا بنرجی خود اور ان کی پارٹی نے الیکشن کمیشن پر جان بوجھ کر جانکاری نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہاں اسمبلی کی کل 294 نشستیں ہیں، تاہم 293 سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ دو مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تقریباً 92 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ووٹوں کی گنتی کے آبزرور (مبصر) تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ ڈی ای او کا نوٹس تاخیر سے موصول ہوا اور ہر بوتھ پربے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو افسریا اہلکار منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

مغربی بنگال میں الیکشن کے بعد ای وی ایم کواسٹرانگ روم میں رکھا گیا ہے۔ ٹی ایم سی لیڈران نے الزام لگایا ہے کہ کولکاتا کے لیڈران انڈوراسٹیڈیم کے اسٹرانگ روم میں ای وی ایم کے ساتھ گڑبڑی کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنال گھوش اورششی پانجا جیسے لیڈر دھرنا دے رہے ہیں۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات اس بار مکمل طور پر ایک ہائی وولٹیج سیاسی مقابلے میں تبدیل ہو گئے۔ بی جے پی کی مہم کی قیادت زیادہ تر امت شاہ نے سنبھالی۔ مارچ کے آخر میں شروع ہونے والی’پریورتن یاترا‘ سے لے کر اپریل کے آخری دنوں تک وہ مسلسل بنگال میں سرگرم رہے۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی 110 سیٹوں پرکامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ سی اے اے کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا، دراندازی کو روکا جائے گا۔ ساتھ ہی بنگال میں بابری مسجد بھی نہیں بننے دیں گے۔

وزیر اعظم نے ریلی میں موجود ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ لوگوں کا یہ جذبہ اور محنت رائیگاں نہیں جائے گی، ہم ترقی کے ذریعے آپ کو سود سمیت جواب دیں گے“۔ ان کے اس بیان پر مجمع نے زوردار تالیاں بجا کر ردعمل دیا۔