Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Election 2026

مقامی افراد کے مطابق علاقے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سست ہے اور کئی سرکاری اسکیمیں مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکیں۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران امت شاہ نے بیرون ملک پھنسے افراد کی مدد کی تھی، جس کے باعث کئی لوگ بحفاظت اپنے گھروں کو لوٹ سکے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اورریاست کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی پولیس اورسی آرپی ایف کے ذریعہ ایس آئی آرکے کام میں حصہ لینے والے مغربی بنگال کے عدالتی افسران کو تحفظ فراہم کرتے رہیں۔ بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیران کی سیکورٹی واپس نہیں لی جائے گی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس موقع پر ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اشارہ دیا کہ ہمایوں کبیر کی وائرل آڈیو کلپ کے پیچھے حکمراں جماعت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممتا بنرجی اس طرح کی ہزاروں ویڈیوز تیار کروا سکتی ہیں، اس لیے اس معاملے کو حقیقت کے بجائے سیاسی چال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ممتا بنرجی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ماں، ماٹی اور مانوش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ ان کے مطابق ریاست کے نوجوان آج بھی بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ خواتین کی سلامتی اور کسانوں کی حالت پر بھی سوالیہ نشان قائم ہے۔

 ترنمول کانگریس سے معطل کئے گئے رکن اسمبلی اسمبلی ہمایوں کبیرنے کچھ دنوں بعد ہی عام جنتا انین پارٹی (اے جے یوپی) کی تشکیل کی تھی۔ بعد میں ہمایوں کبیر نے اسدالدین اویسی کی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیا تھا۔

وزیر اعظم نے اس ریلی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جس میں جلسہ گاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی نظر آ رہی تھی۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ان کی آمد سے پہلے ہی بڑی تعداد میں جمع ہو چکے تھے اور پورا میدان نعروں اور جوش سے گونج رہا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بیر بھوم کے عوام کا جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگال کا مزاج کس سمت میں جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اور 4 مئی کے بعد بنگال ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

وزیر اعظم نریندرمودی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی حکومت پر"سنڈیکیٹ راج" اور"کٹ منی" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بنگال کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بنگال میں بھی تبدیلی اورترقی کا وعدہ کیا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران مرشد آباد کے کنڈی میں کانگریس امیدوار ادھیر رنجن چودھری کے قافلے پر تیز رفتار ٹرک نے حملہ کیا۔ چودھری جیبنتی اور ہاٹپارہ کے درمیان اسٹیٹ ہائی وے 11 پرہونے والے حادثے میں بال بال بچ گئے۔

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے رجحان کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کارکنان نے کہا کہ نوجوان طبقہ بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلیے، جیت پکی کیجئے"، جس پر وہاں موجود کارکنان نے پرجوش نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ اس غیر رسمی گفتگو نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا اور کارکنان میں نیا جوش پیدا ہوا۔