Bharat Express DD Free Dish

AIMIM breaks alliance with Humayun Kabir: اے آئی ایم آئی ایم نے مغربی بنگال میں ہمایوں کبیر سے توڑا اتحاد، اسدالدین اویسی کی پارٹی نے کیا اکیلے لڑنے کا اعلان

 ترنمول کانگریس سے معطل کئے گئے رکن اسمبلی اسمبلی ہمایوں کبیرنے کچھ دنوں بعد ہی عام جنتا انین پارٹی (اے جے یوپی) کی تشکیل کی تھی۔ بعد میں ہمایوں کبیر نے اسدالدین اویسی کی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیا تھا۔

اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد ختم کرلیا ہے۔

مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن کے دوران وائرل ایک ویڈیو کے بعد سیاسی ہلچل تیزہوگئی ہے۔ یہ ویڈیوہمایوں کبیرسے جڑا ہوا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے ویڈیوکی جانچ کرانے اورکارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تووہیں ریاست میں ہمایوں کبیر کی پارٹی اے جے یوپی کے ساتھ مل کرالیکشن لڑرہی اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے اپنا سیاسی اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے آج جمعہ کی صبح سوشل میڈیا ایکس پرپوسٹ کرکے کہا، ”ہمایوں کبیر سے متعلق انکشاف سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کتنے کمزورہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم ایسے کسی بھی بیان سے خود کو نہیں جوڑسکتی، جس سے مسلمانوں کی ایمانداری پرسوال اٹھے۔“ پارٹی نے مزید کہا، ”آج سے اے آئی ایم آئی ایم نے ہمایوں کبیر کی پارٹی اے جے یوپی کے ساتھ اپنا اتحاد توڑدیا ہے۔“

کسی بھی پارٹی سے اتحاد نہیں کریں گے: اے آئی ایم آئی ایم

اے آئی ایم آئی ایم نے مزید لکھا، ”بنگال میں مسلمان سب سے غریب، سب سے زیادہ نظراندازاورسب سے زیادہ استحصال زدہ طبقے میں سے ایک ہیں۔ کئی دہائیوں کی سیکولرحکمرانی کے باوجود، ان کے لئے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ کسی بھی ریاست میں الیکشن لڑنے کے پیچھے اے آئی ایم آئی ایم کی پالیسی اس بات کویقینی بنانا ہے کہ پسماندہ طبقات کوایک آزاد سیاسی آوازملے۔ ہم اب بنگال میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ آزادانہ طورپرالیکشن لڑیں گے۔“

اس سے قبل جمعرات کے روز (9 اپریل، 2026) مغربی بنگال میں اس وقت سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا، جب ہمایوں کبیرکا ایک مبینہ ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل ہوا۔ ویڈیوکے جاری ہونے کے بعد، ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس پارٹی نے اسے شیئرکیا اورانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے ہمایوں کبیرکے مبینہ دعووں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read