Bharat Express DD Free Dish

HM Amit Shah Attacks CM Mamata Banerjee: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا ممتا بنرجی پر شدید حملہ، دراندازی اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ممتا بنرجی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ماں، ماٹی اور مانوش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ ان کے مطابق ریاست کے نوجوان آج بھی بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ خواتین کی سلامتی اور کسانوں کی حالت پر بھی سوالیہ نشان قائم ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال کے ضلع مغربی میدنی پور کے علاقے دیبرا میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے ریاست میں بے روزگاری، بدعنوانی، دراندازی اور مبینہ ”سنڈیکیٹ راج“ کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے اور عوام سے آئندہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ جمعہ کے روز منعقدہ اس جلسۂ عام میں امت شاہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی عوام سے کہا کہ وہ آنے والے انتخابات میں ”کمل“ کے نشان پر بٹن دبا کر تبدیلی کی جانب قدم بڑھائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انتخاب مغربی بنگال کے مستقبل کا تعین کرے گا اور ریاست کو ایک نئی سمت فراہم کرے گا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ممتا بنرجی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ماں، ماٹی اور مانوش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ ان کے مطابق ریاست کے نوجوان آج بھی بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ خواتین کی سلامتی اور کسانوں کی حالت پر بھی سوالیہ نشان قائم ہے۔ امت شاہ نے مزید الزام لگایا کہ ریاست میں بدعنوانی اور ”کٹ منی“ کی روایت عام ہو چکی ہے اور مختلف علاقوں میں سنڈیکیٹ نظام کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو سیمنٹ، بالو اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں، جو اس نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے دراندازی کے مسئلے کو بھی نمایاں طور پر اٹھایا۔ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوتی ہے تو دراندازوں کو ”چن چن کر باہر نکالا جائے گا“۔ ان کے مطابق یہ عناصر نہ صرف مقامی نوجوانوں کے روزگار کے مواقع کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ قانون و نظم کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے بعد ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو عوام کو پریشان کرتے ہیں اور ریاست میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی کی حکومت قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے گی اور عوام کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گی۔ امت شاہ نے اپنے خطاب میں ترقیاتی وعدوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو بے روزگار نوجوانوں اور خواتین کو ماہانہ مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کسانوں کے لیے سالانہ مالی مدد کا وعدہ بھی کیا اور کہا کہ ان اقدامات سے ریاست میں معاشی بہتری آئے گی۔

انہوں نے گھاٹال ماسٹر پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت بننے کے بعد اس منصوبے کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا تاکہ سیلاب کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ریاست کے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ ریلی کے دوران امت شاہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست کی سیاست چند خاندانوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے اور موجودہ حکومت میں اقربا پروری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد بنگال کی قیادت کسی مقامی کارکن کے ہاتھوں میں دی جائے گی۔ جلسے کے اختتام پر انہوں نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو موقع دیں تاکہ ریاست میں شفاف حکمرانی، ترقی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read