ممتا بنرجی نے بھوانی پور میں شوبھیندو ادھیکاری کی جیت کو کلکتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
پورے ملک میں عیدالفطرکا تہوار بڑے ہی دھوم دھام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ تو وہیں دوسری طرف مغربی بنگال میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے بعد سے ہی لیڈران کے درمیان سیاسی بیان بازی اورالزام تراشی کے دوراپنے عروج پرہے۔ عیدالفطر سے متعلق بی جے پی لیڈراوراسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشوبھیندوادھیکاری نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پرحملہ بولا ہے۔
شوبھیندوادھیکاری نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی عید تقریب میں شامل ہونے سے متعلق سوال کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے وزیراعلیٰ کی ضرورت ہی نہیں ہے، جو کسی ایک طبقے کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہے۔ انہوں نے کہا کہ فرہاد حکیم جیسے شخص کی بھی ضرورت نہیں ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ کولکاتا ’منی پاکستان‘ بن جائے گا۔ شوبھیندو ادھیکاری کے ان الزامات پرٹی ایم سی لیڈرابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام میں شامل ہونا سماجی ہم آہنگی بنا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپس میں بھائی چارہ بھی بنا رہتا ہے۔
شوبھیندو ادھیکاری نے کیا جیت کا دعویٰ
شوبھیندو ادھیکاری نے الیکشن سے متعلق بھی اسی وقت سے بڑا دعویٰ کردیا ہے۔ بھلے ہی پرچہ نامزدگی کی تاریخ بھی ابھی شروع نہیں ہوئی ہے، لیکن شوبھیندو ادھیکاری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ممتا بنرجی کو 40 ہزار ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہرائیں گے۔ اس سے پہلے بھی شوبھیندو ادھیکاری اوروزیراعلیٰ ممتا بنرجی آمنے سامنے الیکشن لڑ چکی ہیں۔
ممتا بنرجی نے کہا- ہم چھیننے نہیں دیں گے حقوق
عیدالفطر2026 کے موقع پرمغربی بنگال میں تشہیری مہم بھی تیزہوگئی ہے۔ بی جے پی اورکانگریس دونوں نے ہی مہم تیزکردی ہے۔ بارش کی وجہ سے کئی مقامات پرپریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ بارش اللہ کی رحمت ہے۔ کئی لوگوں کے نام ایس آئی آرسے ہٹا دیئے گئے ہیں، اس کے لئے ہم دہلی اورکولکاتا کے سپریم کورٹ گئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ لوگ احترام دکھائیں گے۔ ہم اپنے حقوق نہیں چھیننے دیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


