مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بار پھر گرماہٹ پیدا ہونے والی ہے، کیونکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 28 مارچ کو کلکتہ کا دورہ کرنے جا رہے ہیں، جہاں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ اس دوران وہ ترنمول کانگریس حکومت کے خلاف ایک تفصیلی چارج شیٹ بھی جاری کریں گے، جس میں ممتا بنرجی حکومت پر کئی سنگین الزامات عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق چارج شیٹ میں ریاست کی مختلف فلاحی اسکیموں میں مبینہ بدعنوانی کو نمایاں کیا جائے گا۔ ان اسکیموں میں عوامی تقسیم نظام، سو دن روزگار اسکیم، رہائشی منصوبے، مڈ ڈے میل اور سیلاب راحت سے متعلق پروگرام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مویشی اسمگلنگ معاملہ، آر جی کر میڈیکل کالج تنازعہ، قصبہ اور سندیش کھالی جیسے حساس معاملات کو بھی اٹھائے جانے کی توقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی سرکاری ملازمین کے مہنگائی بھتے، بھارت بنگلہ دیش سرحد پر باڑ بندی اور ریاست میں امن و قانون کی صورتحال بھی چارج شیٹ میں شامل ہو سکتی ہے۔ سیاسی تشدد، فرقہ وارانہ کشیدگی اور خواتین کی سلامتی جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ان مسائل نے ریاست میں عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ بی جے پی طویل عرصے سے ممتا بنرجی حکومت پر قانون و انتظام کے مسئلے کو لے کر تنقید کرتی رہی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ریاست میں سیاسی تشدد اور بدعنوانی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناظر میں امت شاہ کا دورہ پارٹی کے انتخابی حکمت عملی کا اہم حصہ مانا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امت شاہ کا یہ دورہ 2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی کی سرگرمیوں میں تیزی کی علامت ہے۔ پارٹی اس دورے کے ذریعے کارکنوں میں جوش پیدا کرنے اور تنظیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس بھی اس دورے کو سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے الزامات کو مسترد کر سکتی ہے۔ بی جے پی قیادت کا ماننا ہے کہ مغربی بنگال میں عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور پارٹی اس موقع کو مضبوط حکمت عملی کے ذریعے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ امت شاہ کی کلکتہ آمد کو اسی انتخابی مہم کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
