Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee Alleges BJP Vote Theft: بنگال میں لوٹے گئے ووٹ، ترنمول کو 220 سے زائد سیٹیں ملنی چاہیے تھی… ممتا بنرجی کا بی جے پی پر شدید حملہ

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ممتا بنرجی بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً 20 دن بعد فیس بک لائیو کے ذریعے عوام سے براہ راست خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا اور ترنمول کانگریس کے ہزاروں کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔

کولکاتا: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ممتا بنرجی بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً 20 دن بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں ووٹوں کی ”لوٹ“ ہوئی ہے اور اگر انتخابات شفاف طریقے سے ہوتے تو آل انڈیا ترنمول کانگریس کو 220 سے 230 نشستیں حاصل ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کے لیے انتظامی مشینری کا غلط استعمال کیا گیا اور جمہوری اقدار کو پامال کیا گیا۔ 4 مئی کو اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ممتا بنرجی نے فیس بک لائیو کے ذریعے عوام سے براہ راست خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا اور ترنمول کانگریس کے ہزاروں کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کے تقریباً دو سے ڈھائی ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، پارٹی دفاتر توڑے گئے اور فٹ پاتھ پر روزگار کمانے والے چھوٹے تاجروں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے جہاں مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ”آپ نے ووٹ چرائے ہیں، لوگوں کے جمہوری حق کو چھینا ہے اور خوف کا ماحول قائم کیا ہے“۔ ممتا بنرجی نے اپنے خطاب میں مذہبی معاملات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر آواز کم کرنے یا قواعد نافذ کرنے کی بات ہو تو وہ سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے، کسی ایک طبقے کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو اپنے مذہبی حقوق کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے اور حکومت کسی سے اس کا حق نہیں چھین سکتی۔

انہوں نے پہلگام واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے والے سودیپ پولے کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ممتا نے کہا کہ یہ تمام اقدامات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں اور مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگال میں اس وقت ”انتظامی دہشت“ کا ماحول قائم ہے۔ ترنمول سپریمو نے الیکشن کمیشن پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قومی الیکشن کمیشن پر قبضہ کیا جا چکا ہے اور انتخابی اعداد و شمار کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے کارکن سی آر پی ایف کی وردی پہن کر کاؤنٹنگ سینٹروں میں داخل ہوئے اور ووٹوں میں ہیرا پھیری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر انتخابات واقعی منصفانہ ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے“۔

انہوں نے وزیر اعظم یا مرکزی قیادت کا نام لیے بغیر کہا کہ ”جو لوگ اقتدار میں بیٹھے ہیں، وہ خود کاؤنٹنگ سینٹروں میں بیٹھ کر ووٹ چوری کر رہے تھے، ورنہ ہمیں 200 سے 220 نشستیں ضرور ملتیں“۔ ممتا نے سوال اٹھایا کہ اگر بی جے پی واقعی عوامی حمایت سے جیتی ہے تو عوام میں اس کامیابی کے حوالے سے جوش و خروش کیوں نظر نہیں آ رہا۔ ممتا بنرجی نے اسٹیڈیم سے فٹبال کے مجسمے کو ہٹانے کے معاملے پر بھی ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجسمہ ایک فنکار نے تیار کیا تھا اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس کی تعریف کی تھی۔ ان کا سوال تھا کہ ”کیا صرف مجھ سے ناراضی کی وجہ سے اسے ہٹایا گیا؟“ انہوں نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس کو اسمبلی میں اپوزیشن کا درجہ بھی نہیں دیا جا رہا، حالانکہ پارٹی کے 89 اراکین اسمبلی موجود ہیں۔ ممتا کے مطابق آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور اپوزیشن لیڈر کے دفتر تک کو بند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی لڑائی جاری رکھے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read