Bharat Express DD Free Dish

UP SIR Final List: اتر پردیش میں ایس آئی آر کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جاری، دو کروڑ سے زائد ووٹرس کے نام حذف، جانئے اپنے ضلع کا حال

ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

لکھنؤ: اتر پردیش میں خصوصی گہری نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں دو کروڑ چار لاکھ انتالیس ہزار سے زائد ووٹروں کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق اس بڑے پیمانے کی کارروائی کا مقصد ووٹر لسٹ کو شفاف اور درست بنانا تھا تاکہ آئندہ انتخابات میں بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس نظرِ ثانی سے قبل ریاست میں ووٹروں کی کل تعداد پندرہ کروڑ چوالیس لاکھ سے زیادہ تھی، جو اب گھٹ کر تیرہ کروڑ انتالیس لاکھ بیاسی ہزار سات سو بانوے رہ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کمی بنیادی طور پر ڈپلیکیٹ ناموں، فوت شدہ افراد اور مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہو جانے والے ووٹروں کے نام حذف کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

اس سے قبل 6 جنوری 2026 کو جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں کل بارہ کروڑ پچپن لاکھ چھپن ہزار پچیس ووٹرز شامل تھے۔ بعد ازاں اعتراضات اور تصحیح کے عمل کے بعد حتمی فہرست میں چوراسی لاکھ اٹھائیس ہزار سات سو سڑسٹھ ووٹروں کا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک طرف غیر مستحق ناموں کو ہٹایا گیا تو دوسری طرف نئے اہل ووٹروں کو شامل بھی کیا گیا۔ ضلع وار جائزے کے مطابق کچھ بڑے شہروں میں ووٹروں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سب سے زیادہ اثر ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں پڑا، جہاں تقریباً 9.14 لاکھ یعنی 22.89 فیصد ووٹر کم ہوئے۔ اس کے بعد پریاگ راج میں 8.26 لاکھ، کانپور میں 6.87 لاکھ، آگرہ میں 6.37 لاکھ اور غازی آباد میں 5.74 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے گئے ہیں۔

اسمبلی حلقوں کی سطح پر بھی یہی رجحان سامنے آیا ہے۔ صاحب آباد میں سب سے زیادہ 3.16 لاکھ ووٹر کم ہوئے، جبکہ نوئیڈا، لکھنؤ نارتھ، آگرہ کینٹ اور الہ آباد نارتھ میں بھی بڑی تعداد میں نام خارج کیے گئے۔ خاص طور پر لکھنؤ کینٹ میں 34.18 فیصد کی سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جو اس عمل کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم یہ تصویر مکمل طور پر منفی نہیں ہے۔ کئی علاقوں میں نئے ووٹروں کی شمولیت بھی دیکھی گئی ہے۔ صاحب آباد میں تقریباً 82 ہزار، جونپور میں 56 ہزار، لکھنؤ ویسٹ میں 54 ہزار، لونی میں 53 ہزار اور فیروز آباد میں تقریباً 47 ہزار نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے، جو انتخابی عمل میں عوامی شرکت کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نو دیپ رنوا نے کہا ہے کہ اس خصوصی نظرِ ثانی کا مقصد ووٹر لسٹ کو زیادہ شفاف، درست اور قابلِ اعتماد بنانا تھا۔ ان کے مطابق اس عمل کے دوران تمام ممکنہ خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ انتخابی نظام میں عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جن افراد کے نام کسی وجہ سے فہرست میں شامل نہیں ہو سکے، وہ فارم-6 کے ذریعے آسانی سے اپنا نام دوبارہ درج کرا سکتے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی تفصیلات کی جانچ کریں اور کسی بھی غلطی کی صورت میں بروقت اصلاح کروائیں۔ انتخابی کمیشن کو امید ہے کہ اس صاف اور شفاف ووٹر لسٹ کا مثبت اثر آئندہ اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو ملے گا اور انتخابی عمل مزید منصفانہ اور قابلِ اعتماد بنے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read