Bharat Express DD Free Dish

Election Commission On Elections 2026: انتخابات کو لے کر الیکشن کمیشن کا سخت موقف، اے آئی اور گمراہ کن سوشل میڈیا مواد کے خلاف فوری کارروائی کا اعلان

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

نئی دہلی: ملک میں جاری انتخابی سرگرمیوں کے درمیان الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والے غیر قانونی اور گمراہ کن مواد کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ 2026 کے انتخابات کے دوران کسی بھی مشکوک یا اے آئی سے تیار کردہ مواد پر تین گھنٹوں کے اندر کارروائی کی جائے گی، تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹروں کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ کمیشن نے خاص طور پر اے آئی سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ مواد کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ہدایت کے مطابق اگر کوئی ویڈیو، تصویر یا پیغام مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار یا ترمیم شدہ ہو، تو اسے واضح طور پر نشان زد کرنا ضروری ہوگا کہ یہ اے آئی جنریٹڈ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مواد کے ماخذ کی بھی مکمل معلومات فراہم کرنا لازم ہوگا، تاکہ ووٹرز کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے اور انتخابی عمل میں شفافیت برقرار رہے۔

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ جیسے ہی کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گمراہ کن یا غیر قانونی مواد سامنے آئے گا، اس پر تین گھنٹوں کے اندر کارروائی کی جائے گی۔ اس کارروائی میں مواد کو ہٹانا، متعلقہ افراد کے خلاف قانونی اقدام اور ضرورت پڑنے پر ایف آئی آر درج کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ اس وقت آسام، کیرالہ، تمل ناڈو، پڈوچیری اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کا ماحول عروج پر ہے۔ زمینی سطح پر جہاں سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر بھی انتخابی مہم پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ایسے میں کمیشن نے سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی نگرانی کا نظام قائم کیا ہے، جو ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے مواد، امن و امان کو متاثر کرنے والی پوسٹس اور ووٹنگ کے عمل یا مشینری کے خلاف غلط معلومات پھیلانے والی سرگرمیوں پر نظر رکھے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ 2026 کو انتخابات کے اعلان کے بعد سے اب تک 11 ہزار سے زائد سوشل میڈیا پوسٹس اور یو آر ایل کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جن پر مختلف نوعیت کی کارروائی کی گئی ہے۔ ان کارروائیوں میں مواد کو ہٹانا، وضاحت طلب کرنا، تردیدی بیانات جاری کرنا اور بعض معاملات میں ایف آئی آر درج کرنا شامل ہے۔ الیکشن کمیشن نے عوام اور سیاسی جماعتوں کو یہ بھی یاد دلایا ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 126 کے تحت پولنگ سے 48 گھنٹے قبل سائلنس پیریڈ نافذ ہوتا ہے، جس کے دوران کسی بھی انتخابی مواد کی تشہیر پر پابندی ہوتی ہے۔ یہ پابندی ٹیلی ویژن، ریڈیو، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا سمیت تمام پلیٹ فارمز پر لاگو ہوتی ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

مزید برآں، کمیشن نے شکایات کے اندراج کے لیے سی-ویجل ایپ کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔ شہری، سیاسی جماعتیں اور امیدوار اس ایپ کے ذریعے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزیوں کی فوری اطلاع دے سکتے ہیں۔ 15 مارچ سے 19 اپریل کے درمیان سی-ویجل ایپ پر 3 لاکھ 23 ہزار 99 شکایات درج کی گئی ہیں، جن میں سے 96 فیصد یعنی 3 لاکھ 10 ہزار 393 شکایات کا ازالہ 100 منٹ کے مقررہ وقت کے اندر کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس سخت مؤقف کو انتخابی عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، تاکہ جمہوری عمل کو گمراہ کن معلومات اور مصنوعی مواد کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read