Bharat Express DD Free Dish

Opposition Parties

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان پر کہ گجرات میں بیلٹ پیپر سے ووٹنگ ہونے کے باوجود کانگریس ہار گئی، بہار اور جھارکھنڈ کے این ڈی اے لیڈروں نے حمایت کا اظہار کیا ہے۔ لیڈروں نے کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابی جیت اور ہار کا فیصلہ ووٹنگ کے طریقے سے نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد اور کام کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

’انڈیا‘ اتحاد کی ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ میں 20 جماعتوں کی شرکت، ملک بھر میں ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالنے کا اعلان، اپوزیشن لیڈران اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا وقت مانگیں گے۔

وزیر داخلہ امت شاہ کے مباحثے کی پیشکش پر اپوزیشن کا سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ پر پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہنے کا الزام لگایا ہوئے کہا کہ  طلبہ پر مبینہ فائرنگ اور لاٹھی چارج کا حکم کس نے دیا؟

متعدد اپوزیشن جماعتوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا تھا کہ پارٹی اس بل کی شدید مخالفت کرے گی اور ’’حکومت اس طرح کے بل کو زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ یہ بل غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد غیر ملکی عطیات کے ضابطے میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

انڈیا الائنس کی اتحادی پارٹیوں نے ایس آئی آراورالیکشن کمیشن سے متعلق دیگرمسائل کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کوایک مشترکہ خط بھیجا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ 23 ​​پارٹیاں یقین کے اصول پرمضبوطی سے کھڑی ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔

نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے منگل (24 دسمبر 2024) کو پہلی بار اپنے خلاف لائے گئے نوٹس پر تبصرہ کیا۔ چندر شیکھر آزاد کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ سبزی کاٹنے والے چاقو سے کبھی بائی پاس سرجری نہ کریں۔

دھیان کے بارے میں پی ایم کے اعلان کے بعد، ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے سخت ردعمل دیا اور پوچھا کہ انہیں کیمرے کے سامنے دھیان کیوں کرنا پڑتا ہے۔ وہ بطور وزیر اعظم انتخابی مہم نہیں چلا سکتے۔

پی ایم مودی نے کہا، پارلیمنٹ میں ہمارے ایک ساتھی نے 101 گالیوں کا حساب لگایا تھا، اس لیے الیکشن ہوں یا نہ ہوں، یہ لوگ (اپوزیشن) مانتے ہیں کہ انہیں گالی دینے کا حق ہے اور وہ اس لیے مایوس ہیں کہ گالی اور گالی گلوچ ان کی فطرت بن چکی ہے۔