Bharat Express DD Free Dish

Artificial Intelligence

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس جیسی میموری چپ بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی سپلائی معاہدے کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے کے مقابلے میں سیمی کنڈکٹر صنعت کو زیادہ استحکام فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

جے پی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوئیڈا میں 28 سے 30 جنوری 2027 تک 10ویں بین الاقوامی بایو سائنس و بایوٹیکنالوجی کانفرنس، روایتی طبی علم، جدید بایوٹیکنالوجی، پائیدار زراعت اور مصنوعی ذہانت پر ہوگا عالمی تبادلہ خیال

ماہر نفسیات اور کیریئر کونسلر ڈاکٹر انکش ورما نے ایسے دور میں انسانی اقدار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت معلومات اور تجاویز تو فراہم کر سکتی ہے، لیکن ہمدردی، رفاقت، جذباتی تسلی اور انسانی لمس کا متبادل نہیں بن سکتی۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ سے مضبوط پاس ورڈ بنوانا بلاشبہ آسان ہے، لیکن تحقیق میں ان کے بنائے گئے پاس ورڈز کے مخصوص نمونوں سے متعلق سائبر سلامتی کے خطرات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین نے پاس ورڈ منیجر، طویل اور بے ترتیب پاس فریز اور دو مرحلہ جاتی تصدیق کے استعمال کا مشورہ …

نئے ضابطے کے مطابق کم عمر طلبہ کے لیے اسکولوں میں اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم 14 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہائی اسکول طلبہ کو کچھ مخصوص پائلٹ پروگراموں میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

 اوم برلا نے سیشلز کی نیشنل اسمبلی کی اسپیکر ازریل یولانڈا ارنیسٹا سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون، یوگا، اے آئی اور ڈیجیٹل پارلیمنٹ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

بھارت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، کروڑوں ChatGPT صارفین سے لے کر کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تک، جانیں کیوں اے آئی بھارت کی اگلی ضروری مہارت بن سکتی ہے

شعبہ وار اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں کے روزگار میں سب سے زیادہ کمی آئی ٹی سروسز کے شعبے میں ہوئی، جہاں ملازمتوں کی تعداد 31.4 فیصد گھٹ گئی۔ پبلشنگ کے شعبے، جس میں سافٹ ویئر اور ویب ڈیزائن سے متعلق پیشے بھی شامل ہیں، نوجوانوں کی ملازمتوں میں 27.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

جے پی نڈا نے اپنے مضمون میں کہا کہ حکومت ملک میں میڈیکل آلات کی گھریلو تیاری کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کر رہی ہے۔ ان میں پی ایل آئی اسکیم، میڈیکل ڈیوائس پارکس اور فارما-میڈ ٹیک میں ریسرچ اینڈ انوویشن پروموشن  (پی آر آئی ٖٖپی)اسکیم نمایاں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پی ایل آئی اسکیم کے تحت بھارت میں اب تک 50 سے زائد جدید میڈیکل آلات کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم کا انٹرفیس انتہائی آسان رکھا گیا ہے، تاکہ پہلی بار ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرنے والے افراد بھی اسے آسانی سے استعمال کر سکیں۔ تصدیق شدہ معلومات تک براہِ راست رسائی فراہم کرکے اس پلیٹ فارم کا مقصد رہائشیوں کو ری ڈیولپمنٹ کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے اور ہر مرحلے پر زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔