Urdu Conclave 2026

DMK Govt

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول میں ڈی ایم کے اتحاد کو برتری دکھائی گئی ہے، لیکن وجے کی پارٹی ٹی وی کے کے اعداد و شمار نے مقابلے کو بے حد دلچسپ بنا دیا ہے۔ مختلف سرویز میں الگ الگ تصویر سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے نتائج کے حوالے سے سسپنس برقرار ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔

روڈ شو کے دوران سڑکوں پر لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا، جس میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ راستے بھر لوگوں نے وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا اور جوش و خروش کا اظہار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اجتماع اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

معاہدے کے تحت ریاست کی کل 234 اسمبلی نشستوں میں سے بی جے پی 27 نشستوں پر انتخاب لڑے گی۔ اس کے علاوہ پی ایم کے کو 18 نشستیں جبکہ (اے ایم ایم کے) کو 11 نشستیں دی گئی ہیں۔ باقی نشستوں پر اے آئی اے ڈی ایم کے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔

تمل ناڈو میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں حکمران جماعت ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر بالآخر اتفاق ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 28 اسمبلی نشستیں جبکہ ایک راجیہ سبھا سیٹ دی جائے گی۔ اگرچہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد فارمولہ طے پا گیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے اتوار کو پوڈوچیری میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ جماعتیں پوڈوچیری کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ اب ڈبل انجن حکومت کی ترقیاتی کاموں کا جشن منانا ضروری ہے۔

تمل ناڈو میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس اور ڈی ایم کے کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کو لے کر غیر یقینی صورتحال گہری ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے اس معاملے پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں اتحاد کے مستقبل کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے مدورانتکم میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی عوام سے کہا کہ تمل ناڈو اب تبدیلی چاہتا ہے اور ڈی ایم کے کی بدانتظامی اور کرپشن سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اور ڈی ایم کے حکومت کے جانے کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔