Urdu Conclave 2026

New Motion Planned Against CEC Gyanesh Kumar: چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپوزیشن کی نئی حکمت عملی، گیانیش کمار کو ہٹانے کے لیے نیا اور جامع نوٹس لانے کی تیاری

اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار۔

نئی دہلی: ملک کی سیاسی فضا ایک بار پھر گرم ہوتی نظر آ رہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے پیش کیے گئے نوٹس کے مسترد ہونے کے باوجود اپوزیشن نے اس معاملے کو چھوڑنے کے بجائے مزید مضبوط تیاری کے ساتھ دوبارہ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف قانونی طور پر مضبوط کیس تیار کرنا ہے بلکہ سیاسی سطح پر بھی واضح پیغام دینا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے پر سنجیدہ ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی یہ سرگرمی اس وقت تیز ہوئی ہے جب حال ہی میں آئینی ترمیم (131واں ترمیمی بل) کو ناکام بنانے میں اسے کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے حوصلہ پا کر اپوزیشن کو امید ہے کہ وہ اس بار زیادہ وسیع حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں نئے نوٹس کا مسودہ تیزی سے تیار کیا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ اسے آئندہ ہفتے کے اندر پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ نوٹس لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا یا راجیہ سبھا میں، یا پھر دونوں ایوانوں میں ایک ساتھ پیش کیا جائے گا جیسا کہ پہلے کیا گیا تھا۔ تاہم اپوزیشن اس بار اپنی حکمت عملی میں زیادہ ہم آہنگی اور مضبوطی دکھانا چاہتی ہے تاکہ گزشتہ ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار اپوزیشن کم از کم 200 اراکین پارلیمنٹ کے دستخط حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ منصوبے کے مطابق لوک سبھا سے تقریباً 200 اور راجیہ سبھا سے قریب 80 اراکین کے دستخط جمع کیے جائیں گے تاکہ ایک مضبوط سیاسی پیغام دیا جا سکے۔ ایک سینئر اپوزیشن لیڈر کے مطابق، ”ہم اس بار یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پچھلی مرتبہ ہماری حمایت کو کم سمجھا گیا تھا، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے“۔

اس سے قبل پیش کیے گئے نوٹس میں اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر پر کئی سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان میں الیکشن کمیشن کی خودمختاری برقرار رکھنے میں ناکامی، ایگزیکٹو کے دباؤ میں کام کرنے اور غیر جانبداری پر سوالات شامل تھے۔ مزید برآں انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی، ڈیٹا شیئر نہ کرنے اور بہار سمیت مختلف ریاستوں میں خصوصی ووٹر لسٹ نظرثانی (ایس آئی آر) کے ذریعے ووٹروں کو متاثر کرنے جیسے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ 12 مارچ کو راجیہ سبھا کے 63 اور لوک سبھا کے 130 اراکین نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک نوٹس پیش کیا تھا، تاہم 6 اپریل کو دونوں ایوانوں کے صدور نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن اور لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اپوزیشن آئینی تقاضوں کے مطابق بدعنوانی یا بدسلوکی کا ابتدائی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

آئینی ضوابط کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے لوک سبھا میں کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں 50 اراکین کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔ اگرچہ اپوزیشن کے پاس اس سے زیادہ دستخط موجود تھے، لیکن ثبوت کی کمی کے باعث ان کا نوٹس منظور نہیں ہو سکا تھا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اپوزیشن کی یہ نئی کوشش نہ صرف پارلیمانی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس سے آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکمراں جماعت نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اب تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اپوزیشن اپنے نئے نوٹس میں کس حد تک مضبوط ثبوت پیش کر پاتی ہے اور آیا اس بار اسے پارلیمنٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل ہو پاتی ہے یا نہیں۔ آنے والے دن اس سیاسی رسہ کشی کی سمت کا تعین کریں گے اور یہ واضح کریں گے کہ آیا اپوزیشن اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہو پاتی ہے یا پھر ایک بار پھر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read