چنئی: تمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 کے پیش نظر این ڈی اے نے اپنی انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ پیر کے روز اے آئی اے ڈی ایم کے کے ہیڈکوارٹر میں ایک اہم میٹنگ کے دوران سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں سابق وزیر اعلیٰ کے پلانی سوامی اور مرکزی وزیر پیوش گوئل بھی موجود تھے۔ معاہدے کے تحت ریاست کی کل 234 اسمبلی نشستوں میں سے بی جے پی 27 نشستوں پر انتخاب لڑے گی۔ اس کے علاوہ پی ایم کے کو 18 نشستیں جبکہ (اے ایم ایم کے) کو 11 نشستیں دی گئی ہیں۔ باقی نشستوں پر اے آئی اے ڈی ایم کے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔
سیٹوں کے اعلان کے بعد پی ایم کے کے سرکردہ لیڈر انبومنی رام داس نے حکمراں جماعت ڈی ایم کے پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ رام داس نے سوال اٹھایا کہ اگر موجودہ حکومت نے واقعی بہتر کام کیا ہے تو اسے اتنے بڑے اتحاد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام ڈی ایم کے کے مبینہ ’کمیشن اور وصولی‘ کے نظام سے تنگ آ چکے ہیں اور آئندہ انتخابات میں این ڈی اے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گا۔ ان کے اس بیان نے ریاستی سیاست میں نئی گرماہٹ پیدا کر دی ہے۔ اس اہم اجلاس میں ریاستی بی جے پی صدر نینار ناگیندرن اور سابق گورنر تملیسائی سندرراجن بھی شریک تھیں۔ سندرراجن نے اس اتحاد کو ’جیتنے والا اتحاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمل ناڈو کے مستقبل کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اتحادی جماعتیں ایک مشترکہ مقصد کے تحت اکٹھی ہوئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے اتحادیوں کو مناسب نمائندگی دے کر اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ حکومت مخالف لہر کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ مرکزی قیادت کی شمولیت سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ یہ انتخاب قومی سطح پر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر 23 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ اس سیٹ فارمولے کے اعلان کے بعد مقابلہ اب زیادہ تر این ڈی اے اور ڈی ایم کے اتحاد کے درمیان سمٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اپنی فلاحی اسکیموں کے سہارے اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، تو دوسری جانب این ڈی اے ترقی، بہتر حکمرانی اور مضبوط قیادت کے نعروں کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

