Bharat Express DD Free Dish

AIADMK

آئی ایم ڈی نے دہلی-این سی آر، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، بہار، اتراکھنڈ اور کئی دیگر ریاستوں میں آئندہ پانچ دنوں تک موسلا دھار بارش، تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی گرنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ پہاڑی ریاستوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ میدانی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اے آئی اے ڈی ایم کے کے کئی اراکین اسمبلی باغی ہوئے تھے اوروجے کے حق میں ووٹ کیا تھا۔ ان میں سے تین اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ امکان ہے کہ یہ تین اراکین اسمبلی ضمنی الیکشن میں ٹی وی کے کے ٹکٹ پرالیکشن لڑسکتے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت ریاست کی کل 234 اسمبلی نشستوں میں سے بی جے پی 27 نشستوں پر انتخاب لڑے گی۔ اس کے علاوہ پی ایم کے کو 18 نشستیں جبکہ (اے ایم ایم کے) کو 11 نشستیں دی گئی ہیں۔ باقی نشستوں پر اے آئی اے ڈی ایم کے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔

تمل ناڈو میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں حکمران جماعت ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر بالآخر اتفاق ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 28 اسمبلی نشستیں جبکہ ایک راجیہ سبھا سیٹ دی جائے گی۔ اگرچہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد فارمولہ طے پا گیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے اتوار کو پوڈوچیری میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ جماعتیں پوڈوچیری کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ اب ڈبل انجن حکومت کی ترقیاتی کاموں کا جشن منانا ضروری ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تمل ناڈو کے پدوکوٹئی میں منعقدہ ’’تملگم تھلائی نمرا تملنن پاینم یاترا‘‘ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی ڈی ایم کے حکومت پر شدید حملہ بولا۔ انہوں نے ڈی ایم کے کو ملک کی سب سے بدعنوان حکومت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپریل 2026 میں تمل ناڈو میں این ڈی اے کی حکومت بنے گی۔

اسٹالن کی پارٹی نے کہا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے این ای ای ٹی امتحان، ہندی کے نفاذ، تین زبانوں کی پالیسی اوروقف ایکٹ کی مخالفت کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا کہ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات اے آئی اے ڈی ایم کے کے سربراہ ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کی قیادت میں لڑے جائیں گے۔

نائب وزیر اعلیٰ کے لیے ان کے نام کا اعلان آئندہ 24 گھنٹوں میں کیا جا سکتا ہے۔ اس مہینے کے شروع میں، امریکہ کے دورے پر جانے سے پہلے، ایم کے اسٹالن نے ادےندھی اسٹالن کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا اشارہ دیا تھا۔