Bharat Express DD Free Dish

Tamil Nadu Assembly Elections

معروف موسیقار اے آر رحمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وجے کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ نئی قیادت کرپشن سے پاک، سماجی انصاف اور مساوات پر مبنی سیاست کو فروغ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چنئی کو فن اور خوشحالی کا مرکز بنانے کا خواب ضرور پورا ہوگا۔

انتخابات میں اسٹالن کو ذاتی طور پر بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ وہ اپنی روایتی کولاتھور نشست سے شکست کھا گئے، جہاں انہیں وی ایس بابو نے ہرایا۔ یہ نتیجہ ریاستی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کسی موجودہ وزیر اعلیٰ کی اپنی نشست سے شکست ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

تمل ناڈو اسمبلی الیکشن میں اس بار تھلاپتی وجے کی پارٹی کی موجودگی نے سبھی سیاسی حالات کو بدل کررکھ دیا ہے۔ پہلے ہی الیکشن میں ان کی پارٹی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پولز اور اصل نتائج کا ریکارڈ مختلف رہا ہے۔ جانیے کن ریاستوں میں اندازے درست ثابت ہوئے اور کہاں یہ مکمل طور پر ناکام رہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ڈاکٹر ہانڈے کے اس عمل کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے ان کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”یہ ایک انتہائی اہم پیغام ہے۔ مجھے امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ووٹنگ میں حصہ لیں گے اور ہمارے جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنائیں گے“۔

دھرماپوری میں ایک انوکھی پہل کے تحت ووٹنگ کے دوران انسانوں اور کتوں جیسے دکھائی دینے والے روبوٹس نے پہلی بار ووٹ دینے والوں کا استقبال پھولوں، مٹھائیوں اور سرٹیفکیٹس کے ساتھ کیا۔ پولنگ مراکز کو غباروں سے سجایا گیا تھا اور روبوٹس سبز قالین پر ووٹرز سے بات چیت بھی کر رہے تھے۔

کلاکوریچی ضلع کے اولندورپیٹ اسمبلی حلقے میں کل 375 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 16 کو حساس قرار دے کر اضافی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح کنیا کماری میں بھی ووٹنگ جاری ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

تھلاپتی وجے نے چنئی کے نیلانگرائی علاقے کے ایک اسکول میں قائم پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالا۔ ان کی پارٹی اس بار پہلی مرتبہ مکمل طور پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور وہ خود دو نشستوں سے امیدوار ہیں۔

روڈ شو کے دوران سڑکوں پر لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا، جس میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ راستے بھر لوگوں نے وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا اور جوش و خروش کا اظہار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اجتماع اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

بی جے پی کے منشور میں سب سے زیادہ توجہ خواتین پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ہر گھر کی خاتون سربراہ کو ماہانہ 2 ہزار روپے کی مالی مدد دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی سال میں تین مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد گھریلو اخراجات کو کم کرنا اور خواتین کو معاشی سہارا دینا ہے۔