کیرلا (اب کیرلم) میں 140 اسمبلی سیٹوں پرووٹنگ جاری ہے۔ اس درمیان کیرلا کے تریشور کے وانیام پارا سے ووٹنگ کے دن ایک مایوس کن حادثہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک 62 سالہ بزرگ شخص کی ووٹ ڈالنے کے فوراً بعد طبیعت خراب ہوگئی اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق، مہلوک کی پہچان ونودن کے طورپر ہوئی ہے، جو وانیام پارا کے پاس رام نیچرا کے رہنے والے تھے۔ وہ جمعرات کی صبح اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے وانیام پارا واقع ای کے ایم یوپی اسکول پہنچے تھے۔
جانکاری کے مطابق، ونود تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک قطارمیں کھڑے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ تاہم ووٹنگ سینٹرسے باہرنکلتے وقت صبح تقریباً 10 بج کر45 منٹ پر وہ اچانک بے ہوش ہوکرگرپڑے۔ موقع پرموجود لوگوں نے فوراً ان کی مدد کرنے کی کوشش کی اورانہیں کرسی پربٹھایا، لیکن ان کی حالت مسلسل بگڑتی گئی۔ کچھ ہی دیرمیں ایمبولینس موقع پرپہنچی اورانہیں نزدیکی سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔
ڈاکٹروں نے مردہ قراردیا
اسپتال پہنچنے پرڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ اس حادثہ کے بعد علاقے میں غم کا ماحول ہے۔ پولیس نے بتایا کہ معاملے میں ضروری کارروائی کی جائے گی اور حادثہ کی جانچ شروع کردی گئی ہے تاکہ موت کی درست وجہ کا پتہ چل سکے۔ یہ حادثہ ووٹنگ کے دن پیش آیا ہے، جب وہ ان حالات کو بھی دکھاتی ہین، جہاں لمبی قطاراورجسمانی پریشانی کچھ لوگوں کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔
کیرلا الیکشن میں مقابلہ کافی دلچسپ
کیرلا اسمبلی الیکشن میں اس بارمقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ ریاست میں کل 883 امیدوارمیدان میں ہیں، یعنی ہرسیٹ پراوسطاً 6 سے 7 امیدواراپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ الیکشن میں مقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ حالانکہ کئی سیٹوں پرصورتحال کافی مشکل ہوگئی ہے۔ کیونکہ باغی اورآزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں الیکشن لڑرہے ہیں۔ ان کی وجہ سے کئی انتخابی حلقوں میں مقابلہ کافی سخت ہوگیا ہے، جہاں نتیجوں سے متعلق قیاس لگاپانا کافی مشکل ہے۔ رائے دہندگان کی بات کریں توریاست میں تقریباً 27 لاکھ رائے دہندگان ہیں، جو 30,000 سے زیادہ ووٹنگ مراکزپراپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اتنی بڑی سطح پرووٹنگ کے لئے الیکشن کمیشن نے بڑی تیاری کی ہے۔ تاکہ عمل پُرامن اورمنظم طریقے سے پورا ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

