Bharat Express DD Free Dish

Kerala Assembly Elections 2026

جنوبی ہند کی سیاست میں ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں آر جے ڈی نے پہلی بار اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ کُوتھوپرمبا اسمبلی حلقے سے آر جے ڈی کے امیدوار پی کے پروین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پولز اور اصل نتائج کا ریکارڈ مختلف رہا ہے۔ جانیے کن ریاستوں میں اندازے درست ثابت ہوئے اور کہاں یہ مکمل طور پر ناکام رہے؟

کیرلا اسمبلی الیکشن میں اس بارمقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ ریاست میں کل 883 امیدوارمیدان میں ہیں، یعنی ہرسیٹ پراوسطاً 6 سے 7 امیدواراپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ الیکشن میں مقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ حالانکہ کئی سیٹوں پرصورتحال کافی مشکل ہوگئی ہے۔ کیونکہ باغی اورآزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے کئی انتخابی حلقوں میں مقابلہ کافی سخت ہوگیا ہے۔

آسام، کیرالہ اور مرکز کے زیرِ انتظام خطہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا شور مکمل طور پر تھم چکا ہے۔ جمعرات کو ان تینوں علاقوں کی کل 296 نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو جائے گی۔

کیرالہ اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ امت شاہ نے این ڈی اے امیدوار کی حمایت میں بیپور میں روڈ شو کیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور عوام میں زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی سیاسی مخالفین کو دبانے اور ڈرانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن ریاستی حکومت کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔