Bharat Express DD Free Dish

Assembly Elections: آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں کل 296 نشستوں پر جمعرات کو ووٹنگ، سکیورٹی کے سخت انتظامات

آسام، کیرالہ اور مرکز کے زیرِ انتظام خطہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا شور مکمل طور پر تھم چکا ہے۔ جمعرات کو ان تینوں علاقوں کی کل 296 نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق آسام کی 126، کیرالہ کی 140 اور پڈوچیری کی 30 نشستوں پر ووٹنگ کرائی جائے گی۔ آسام کی بات کریں تو یہاں کل 2.5 کروڑ ووٹرز ہیں، جن میں 1.25 کروڑ مرد، 1.25 کروڑ خواتین اور 343 تھرڈ جینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ 18 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 5.75 لاکھ نوجوان پہلی بار اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ آسام کی 126 نشستوں کے لیے 722 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں اکثریت کے لیے 64 نشستیں درکار ہیں۔ ریاست کی 15ویں اسمبلی کی مدت 20 مئی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔

کیرالہ میں 140 نشستوں کے لیے کتنے امیدوار  ہیں انتخابی میدان میں؟

وہیں کیرالہ میں 140 نشستوں کے لیے 833 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ یہاں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سہ رخی مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حکومت بنانے کے لیے 71 نشستوں کی اکثریت ضروری ہے۔ ریاست میں کل 2.71 کروڑ ووٹرز ہیں، جن میں 1.32 کروڑ مرد، 1.39 کروڑ خواتین اور 273 تھرڈ جینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ پڈوچیری میں 30 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں سے 5 نشستیں درج فہرست ذات (ایس سی) کے لیے محفوظ ہیں۔ یہاں حکومت بنانے کے لیے 16 نشستوں کی اکثریت درکار ہے۔ کل 9.44 لاکھ ووٹرز میں تقریباً 4.43 لاکھ مرد، 5 لاکھ خواتین اور 139 تھرڈ جینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق نامزدگی کے دوران بڑی تعداد میں امیدواروں نے کاغذات داخل کیے تھے۔ آسام میں 1,388 نامزدگیاں داخل ہوئیں، جن میں 817 امیدوار شامل تھے۔ کیرالہ میں 2,117 نامزدگیوں کے ساتھ 1,252 امیدوار اور پڈوچیری میں 514 نامزدگیوں کے ساتھ 442 امیدواروں نے درخواست دی تھی۔ مجموعی طور پر 4,019 نامزدگیاں داخل ہوئیں، جن میں 2,511 امیدوار شامل تھے۔ تاہم جانچ پڑتال اور نام واپس لینے کے بعد امیدواروں کی حتمی تعداد کم ہو کر تقریباً 1,900 سے زیادہ رہ گئی ہے۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 126 کے تحت ’سائلنس پیریڈ‘ نافذ ہے۔ ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطے میں ووٹنگ کے بعد 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ اب سب کی نظریں ووٹنگ کے فیصد اور انتخابی نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں۔تمام پولنگ بوتھ پر پولنگ عملہ پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی گڑبڑی نہ ہو سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read