Bharat Express DD Free Dish

assembly elections

الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات کے لیے نامزدگی کا عمل 9 ستمبر سے شروع ہوگا۔ امیدوار 16 ستمبر تک اپنے نامزدگی کے کاغذات داخل کر سکیں گے۔ نامزدگی کے کاغذات کی جانچ پڑتال 17 ستمبر کو ہوگی، جبکہ امیدوار 19 ستمبر تک اپنی امیدواری واپس لے سکیں گے۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی ان تمام حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہونے کی توقع ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کی پہلی ترجیح اتحاد، سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق نہ ہوا تو200 سے250 اسمبلی نشستوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری، پارٹی نے فی الحال پریاگ راج، بہرائچ، سہارنپور، مرادآباد، رام پور اور امروہہ کی کئی اسمبلی نشستوں پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔

بی جے پی کی حکمت عملی حکومت کی کارکردگی اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے سہارے آئندہ اسمبلی انتخابات میں برتری برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ نے مجموعی طور پر 27 نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 22 نشستوں پر اس کی جیت یقینی قرار دی جا رہی ہے جبکہ کئی حلقوں میں پارٹی امیدوار بڑی برتری کے ساتھ آگے ہیں۔ پارٹی کا اسٹرائیک ریٹ تقریباً 85 فیصد رہا ہے، جو اس کی انتخابی حکمت عملی اور عوامی حمایت کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹی ایم سی لیڈر نے الزام لگایا کہ گزشتہ پانچ مہینوں سے مرکز اور الیکشن کمیشن مسلسل عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے بجائے اسے پیچیدہ اور مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پارٹی نے جو مہم شروع کی تھی، وہ اب دوسرے مرحلے میں اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے

الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرحلے میں 3 کروڑ 21 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3,21,73,837 ہے، جن میں 1,64,35,627 مرد، 1,57,37,418 خواتین اور 792 تھرڈ جینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 1,448 امیدواروں کی قسمت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، انتخابی مہم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور شراب کی فروخت بھی بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سکیورٹی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، جس کے بعد نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

آسام، کیرالہ اور مرکز کے زیرِ انتظام خطہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا شور مکمل طور پر تھم چکا ہے۔ جمعرات کو ان تینوں علاقوں کی کل 296 نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق 2021 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں اس بار فوجداری مقدمات رکھنے والے امیدواروں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ 2021 میں 941 امیدواروں میں سے 138 امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ظاہر کیے تھے، جو تقریباً 15 فیصد بنتے تھے۔ اس بار یہ شرح 14 فیصد تک محدود رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں سیاسی تبدیلی کا دور چل رہا ہے اور کمیونسٹ نظریہ اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک میں کانگریس بھی کمزور ہو رہی ہے جبکہ نریندر مودی کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔