ترواننت پورم: جنوبی ہند کی سیاست میں ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں آر جے ڈی نے پہلی بار اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ کُوتھوپرمبا اسمبلی حلقے سے آر جے ڈی کے امیدوار پی کے پروین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ریاست کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق کانگریس کی قیادت والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ ہر گزرتے مرحلے کے ساتھ نتائج مزید واضح ہو رہے ہیں اور سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔
ان سب کے درمیان کُوتھوپرمبا نشست سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں آر جے ڈی کے پی کے پروین نے سخت مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کیرلم اسمبلی میں آر جے ڈی کا کوئی نمائندہ پہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جیت نہ صرف پارٹی کے لیے بلکہ اتحادی سیاست کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کیرلم میں آر جے ڈی بائیں بازو کے اتحاد کا حصہ ہے۔ اس نشست پر مقابلہ انتہائی کانٹے دار رہا۔ پی کے پروین نے مجموعی طور پر 70,448 ووٹ حاصل کیے اور انڈین یونین مسلم لیگ کی امیدوار جینتی راجن کو محض 1,286 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ جینتی راجن کو 69,162 ووٹ ملے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے، جنہیں 22,195 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس قریبی مقابلے نے انتخابی نتائج کو مزید دلچسپ بنا دیا۔
ریاست بھر میں پارٹیوں کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو کانگریس اب تک 42 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی ہے اور 21 نشستوں پر آگے ہے۔ بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی (ایم) نے 20 نشستیں جیتی ہیں اور 6 پر برتری حاصل ہے۔ اسی طرح انڈین یونین مسلم لیگ 9 نشستیں جیت چکی ہے اور 13 پر آگے ہے، جبکہ سی پی آئی نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور 3 پر سبقت برقرار ہے۔ کیرلم کانگریس کو اب تک 6 نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور ایک پر وہ آگے ہے، جبکہ ریولوشنری سوشلسٹ پارٹی نے 3 نشستوں پر کامیابی درج کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے نتائج ملے جلے رہے ہیں، جہاں وہ ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے اور دو نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔
پی کے پروین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک کاروباری شخصیت ہیں اور انہوں نے اناملائی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن اور ایم فل کی تعلیم حاصل کی ہے۔ مالی حیثیت کے لحاظ سے بھی وہ مضبوط سمجھے جاتے ہیں، جن کے پاس تقریباً 1.33 کروڑ روپے کی منقولہ اور 2.05 کروڑ روپے کی غیر منقولہ جائیداد موجود ہے، جبکہ ان پر تقریباً 15 لاکھ روپے کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کیرلم میں آر جے ڈی کی یہ کامیابی اس بات کا اشارہ ہے کہ علاقائی جماعتیں اب نئی ریاستوں میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ نتیجہ نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے، جہاں اتحادی سیاست کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




