Bharat Express DD Free Dish

AIUDF

جنوبی ہند کی سیاست میں ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں آر جے ڈی نے پہلی بار اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ کُوتھوپرمبا اسمبلی حلقے سے آر جے ڈی کے امیدوار پی کے پروین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2021 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں اس بار فوجداری مقدمات رکھنے والے امیدواروں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ 2021 میں 941 امیدواروں میں سے 138 امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ظاہر کیے تھے، جو تقریباً 15 فیصد بنتے تھے۔ اس بار یہ شرح 14 فیصد تک محدود رہی ہے۔

آسام اسمبلی الیکشن سے پہلے اے آئی یوڈی ایف صدربدرالدین اجمل نے کانگریس اوربی جے پی پرتنقید کی ہے۔ بدرالدین اجمل نے الزام لگایا کہ کانگریس، بی جے پی کی ’اے ٹیم‘ ہے اوراس کے اراکین اسمبلی پارٹی تبدیل کرکے بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔

آسام کانگریس کے سابق صدر بھوپین کمار بورا نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ان کے بی جے پی میں شمولیت کے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ اس موقع پر اے آئی یو ڈی ایف نے کانگریس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں بی جے پی کے ایجنٹس موجود ہیں اور بورا کی جانب سے اتحاد توڑا گیا۔

اے آئی یوڈی ایف سربراہ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان محفوظ ہیں اور ہندووں کی حمایت ہے۔ سال 2024 کی ہارکے بعد اے آئی یوڈی ایف اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ کیونکہ اسمبلی الیکشن سے پہلے کانگریس نے اس سے دوری بنالی ہے، جس سے آسام میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ ہے۔

پارٹی کے ایک وفد نے گورنر سے ملاقات کی اور انھیں ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں اس معاملے میں ان سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

اجمل نے کہا کہ میرا رقیب الحسین سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن میری ان کے بیٹے سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور میری خواہش ہے کہ وہ ضمنی انتخاب میں ساماگوری سے ایم ایل اے منتخب ہوں۔ وہ دعا لینے کے لئے گھر آئے تھے۔

اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل آسام کی دھوبری لوک سبھا سیٹ پر کانگریس ایم ایل اے رقیب الحسین اور آسام گنا پریشد (اے جی پی) کے جبید اسلام سے مقابلہ کر رہے تھے۔

پرینکا گاندھی واڈرا نے دھوبری میں رقیب الحسین کی حمایت میں مہم چلائی تھی۔ کانگریس لیڈر نے پارٹی امیدوار کے حق میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے روڈ شو بھی کیا تھا۔

دھوبری لوک سبھا سیٹ سے بدرالدین اجمل کے خلاف مقابلہ کرنے والے رقیب الحسین نےبد رالدین اجمل کو بوڑھا شیر کہا تھا۔ کانگریس امیدوار کے اس بیان پر اجمل نے کہا تھا کہ میں اتنا بوڑھا نہیں ہوں۔ میں دوبارہ شادی کر سکتا ہوں۔