Bharat Express DD Free Dish

RJD Leader Tejashwi Yadav

تیجسوی یادو نے مختلف مجرمانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو براہ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا محکمہ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہونے کے باوجود مجرموں میں قانون کا کوئی خوف نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق بہار میں خواتین کی سلامتی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، مگر حکومت صرف دعوے کرنے میں مصروف ہے۔

جنوبی ہند کی سیاست میں ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں آر جے ڈی نے پہلی بار اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ کُوتھوپرمبا اسمبلی حلقے سے آر جے ڈی کے امیدوار پی کے پروین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ریاست کے قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ خواتین کو نہ صرف مالی ترغیبات دی گئیں بلکہ انہیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ تیجسوی کے مطابق، ووٹنگ مراکز پر کیمروں کا حوالہ دے کر خواتین کو کہا گیا کہ اگر انہوں نے مخصوص نشان پر ووٹ نہ دیا تو دی گئی رقم واپس لے لی جائے گی۔ انہوں نے اس الزام کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں آزاد اور شفاف انتخابات کے اصولوں کے خلاف ہیں۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

بہار راجیہ سبھا انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے آر جے ڈی کے امیدوار کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ پانچ اراکینِ اسمبلی کے ووٹوں سے مہاگٹھ بندھن کی راہ آسان ہو گئی ہے، لیکن اس کے بدلے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی ایک نشست پر ڈیل کی بات سامنے آئی ہے۔

بہار اسمبلی کا بجٹ سیشن سوموار سے شروع ہو گیا ہے، جس میں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر اور حزب اختلاف کے لیڈر تیجسوی یادو اپنے پیر کے انگوٹھے میں چوٹ کے باوجود ویل چیئر سے اسمبلی پہنچے اور بجٹ سیشن میں حصہ لے کر اپنی ذمہ داری پوری کی۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ترجمان سید شاہنواز حسین نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر تیجسوی یادو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو اقتدار کے لائق ہیں اور نہ ہی اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لائق ہیں۔

لالو یادو کے خاندان میں جاری نورا کشتی کے درمیان روہنی آچاریہ کے کئی بیانات سامنے آرہے ہیں۔ اب تیج پرتاپ یادو نے آر جے ڈی اور تیجسوی یادو کو نشانے پر لیتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی سیاسی ماحول گرم ہے۔ ٹوٹتے ہوئے یادو خاندان کے خلاف رابڑی رہائش گاہ کے سامنے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ ایسے میں تیجسوی یادو اب کیا کریں گے؟

روہنی آچاریہ نے سیاست سے استعفیٰ دینے اور خاندان سے علیحدگی کے بارے میں کہا کہ اب میرا کوئی خاندان نہیں ہے۔ میرے بھائیوں نے مجھے الگ کر دیا ہے۔ وہ ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔ پورا ملک پوچھ رہا ہے کہ پارٹی کیوں ناکام ہوئی۔