Urdu Conclave 2026

Assembly polls: اسمبلی انتخابات میں دکھا زبردست جوش، پڈوچیری میں سب سے زیادہ 89.20 فیصد ووٹنگ، آسام دوسرے اور کیرلم تیسرے نمبر پر

تینوں خطوں میں ووٹنگ کے بعد اب سب کی نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومتوں کی تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقائی سیاست کے لیے اہم ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ان کے نتائج آنے والے سیاسی رجحانات کی سمت طے کر سکتے ہیں۔

بھارت کے تین اہم خطوں کیرلم، آسام اور پڈوچیری میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ووٹروں کی زبردست شرکت دیکھنے میں آئی، جس نے جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کو ایک بار پھر ظاہر کر دیا۔ الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شام ساڑھے سات بجے تک پڈوچیری میں سب سے زیادہ 89.20 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جبکہ آسام میں 85.10 فیصد اور کیرلم میں 77.50 فیصد پولنگ ہوئی۔ یہ انتخابات ایک ہی مرحلے میں منعقد ہوئے، جہاں ووٹروں نے بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ تینوں خطوں میں مجموعی طور پر پرامن اور منظم طریقے سے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا، جس کے بعد پولنگ عملہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) اور وی وی پی اے ٹی (VVPAT) کو سیل کر دیا۔ ووٹنگ کے دوران کئی سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنا ووٹ ڈالا۔ ہیمنتا بسوا سرما اور پنارائی وجین ابتدائی ووٹ ڈالنے والوں میں شامل رہے۔ اسی طرح پڈوچیری کے وزیراعلیٰ این رنگاسوامی نے بھی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے موٹر سائیکل پر پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ دیا۔

کیرالم: بڑی تعداد میں ووٹرز کی شرکت

کیرلم میں 140 اسمبلی نشستوں کے لیے 883 امیدوار میدان میں تھے، جبکہ 2.6 کروڑ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ تھے۔ ان میں خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں سے زیادہ رہی، جو ریاست میں خواتین کی فعال سیاسی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 4.24 لاکھ نوجوان ووٹرز نے بھی اس انتخاب میں حصہ لیا، جبکہ 85 سال سے زائد عمر کے دو لاکھ سے زیادہ افراد نے بھی ووٹ ڈال کر جمہوریت سے اپنی وابستگی کا ثبوت دیا۔ ریاست میں حکمراں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (LDF) کو کانگریس کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) سے سخت چیلنج درپیش ہے، جبکہ بی جے پی بھی اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آسام: سخت مقابلہ اور بھرپور ووٹنگ

آسام میں 126 نشستوں کے لیے 722 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا، جہاں 2.5 کروڑ سے زائد ووٹرز نے اپنے حق کا استعمال کیا۔ اس ریاست میں مقابلہ بنیادی طور پر بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے اور کانگریس اتحاد کے درمیان ہے۔ ریاست میں انتخابی مہم کے دوران سیاسی کشیدگی اور سخت بیانات دیکھنے میں آئے، تاہم ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوا، جو انتظامیہ کی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔

پڈوچیری: سب سے زیادہ ووٹنگ، سہ رخی مقابلہ

پڈوچیری میں 30 اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی، جہاں 10 لاکھ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ تھے۔ یہاں ووٹنگ کا تناسب سب سے زیادہ رہا، جو عوامی دلچسپی اور سیاسی سرگرمیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں حکمراں این ڈی اے، جس میں آل انڈیا این آر کانگریس اور بی جے پی شامل ہیں، کو کانگریس-ڈی ایم کے اتحاد سے چیلنج درپیش ہے، جبکہ اداکار وجے کی جماعت بھی مقابلے کو سہ رخی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تینوں خطوں میں ووٹنگ کے بعد اب سب کی نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومتوں کی تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقائی سیاست کے لیے اہم ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ان کے نتائج آنے والے سیاسی رجحانات کی سمت طے کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read