Bharat Express DD Free Dish

Assam Elections

وڈودرا میں سرداردھام ہاسٹل کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گجرات کے بلدیاتی اور پنچایت انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی کو بھی شاندار قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گجرات کے عوام نے ہمیشہ سیاسی استحکام کو ترجیح دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریاست مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ترقی، خواتین کی طاقت اور ”وکست آسام“ کے وژن کے حق میں دیا گیا مینڈیٹ قرار دیا۔

بنگلہ دیشی دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی جیسے حساس مسائل کو اٹھاتے ہوئے ہمینت بسوا سرما نے خود کو مقامی شناخت کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ مدارس کی بندش، زمین سے متعلق سخت پالیسیوں اور ثقافتی تحفظ کے بیانیے نے ہندو اور مقامی آسامیہ ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا، جس سے زبردست پولرائزیشن دیکھنے کو ملی۔

تینوں خطوں میں ووٹنگ کے بعد اب سب کی نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومتوں کی تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقائی سیاست کے لیے اہم ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ان کے نتائج آنے والے سیاسی رجحانات کی سمت طے کر سکتے ہیں۔

ان تینوں ریاستوں میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ جمعرات کو ہوگی، جس میں آسام کی 126، کیرالا کی 140 اور پڈوچیری کی 30 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امت شاہ، وزیردفاع راجناتھ سنگھ، جے پی نڈا، کانگریس کے صدر ملکاارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں نے انتخابی ریاستوں میں جلسے کر کے اپنے امیدواروں کے حق میں فضا بنانے کی کوشش کی۔

وزیرداخلہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ آسام میں بی جے پی تیسری بار حکومت بنانے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال دراندازوں کی نشاندہی میں لگے اور آئندہ پانچ سالوں میں انہیں ملک سے نکالنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا ڈبروگڑھ کے ایک چائے کے باغ کا دورہ ہوا۔  یہ دورہ آسام کی چائے صنعت کی ثقافتی اور معاشی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ روڈ شو ایسے وقت میں ہوا ہے جب ریاست میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق آسام کی تمام 126 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔

پارٹی لیڈران کے مطابق امت شاہ کا یہ دورہ بالائی اور زیریں آسام کے اہم حلقوں میں بی جے پی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ 2 اپریل کو ایک بار پھر انتخابی مہم کے سلسلے میں آسام کا دورہ کریں گے۔

آسام کی 126 نشستوں والی اسمبلی کے لیے حکمراں بی جے پی اتحاد اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ کانگریس اقتدار میں واپسی کے لیے میدان میں ہے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے اتحاد نے 75 نشستیں جیتی تھیں، جن میں بی جے پی کو اکیلے 60 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔