ہیلکانڈی، آسام: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو تیسری بار اقتدار میں لائیں تاکہ ریاست سے غیر قانونی دراندازی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ ہیلکانڈی میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ 9 اپریل کو عوام کمل کے نشان پر بٹن دبائیں اور کسی ایک امیدوار یا ہیمنتا بسوا سرما کو وزیراعلیٰ بنانے کے لیے نہیں، بلکہ بی جے پی کو ووٹ دیں تاکہ پورے خطے سے دراندازوں کو نکالا جا سکے۔
دراندازی بی جے پی کا مرکزی انتخابی مدعا
امت شاہ نے واضح کیا کہ غیر قانونی دراندازی کا مسئلہ بی جے پی کی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت بننے کے بعد نئی دراندازی تقریباً رک گئی ہے، خاص طور پر تریپورہ اور مغربی بنگال کے راستے۔ بی جے پی رہنما نے انڈین نیشنل کانگریس پر الزام لگایا کہ اس نے برسوں تک آسام کو دراندازی کا گیٹ وے بنائے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے نو اضلاع دراندازوں سے متاثر ہو چکے ہیں اور بی جے پی حکومت آنے پر انہیں مرحلہ وار باہر نکالا جائے گا۔ امت شاہ نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے تین طلاق کا خاتمہ کیا، لیکن کانگریس نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یو سی سی کے تحت ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں ہوگی اور بی جے پی حکومت بننے پر اسے آسام میں نافذ کیا جائے گا۔
تیسری بار حکومت بنانے کا دعویٰ
امت شاہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ آسام میں بی جے پی تیسری بار حکومت بنانے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال دراندازوں کی نشاندہی میں لگے اور آئندہ پانچ سالوں میں انہیں ملک سے نکالنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آسام اسمبلی کی 126 نشستوں کے لیے 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے اتحاد، کانگریس کے زیر قیادت اتحاد کے ساتھ سخت مقابلے میں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

