Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Engages With Tea Workers: وزیر اعظم مودی نے آسام میں چائے کے مزدوروں سے کی ملاقات، صنعت کی عالمی شناخت کو کیا اجاگر

وزیر اعظم نریندر مودی کا ڈبروگڑھ کے ایک چائے کے باغ کا دورہ ہوا۔  یہ دورہ آسام کی چائے صنعت کی ثقافتی اور معاشی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کی صبح ڈبروگڑھ میں ایک چائے باغ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خواتین مزدوروں سے ملاقات کی اور آسام کی عالمی سطح پر معروف چائے صنعت کی تشکیل میں ان کے کردار کو سراہا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چائے آسام کی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس کی عالمی شہرت قابلِ فخر ہے۔ انہوں نے اس دورے کو یادگار قرار دیتے ہوئے چائے باغوں سے وابستہ خاندانوں کی محنت اور لگن کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی خدمات ریاست کے وقار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

وزیر اعظم نے مزدوروں سے بات چیت کی

دورے کے دوران وزیر اعظم نے مزدوروں سے بات چیت کی، جن میں بڑی تعداد خواتین کی تھی جو چائے صنعت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے چائے کی پتیاں توڑنے کے عمل کا مشاہدہ کیا اور مقامی ثقافت پر گفتگو کرتے ہوئے کمیونٹی سے ذاتی وابستگی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم مودی اکثر اپنی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہیں، جب وہ اپنے والد کے ساتھ چائے فروخت کرنے میں مدد کیا کرتے تھے۔ یہ پس منظر ان کی عوامی تقاریر اور سیاسی پیغام رسانی میں نمایاں رہتا ہے۔

انتخابات سے قبل سیاسی اہمیت

یہ دورہ آسام میں وزیر اعظم مودی کے انتخابی مہم کے پروگرام کا حصہ ہے، جہاں وہ اسمبلی انتخابات سے قبل کئی جلسوں سے خطاب کرنے والے ہیں۔ چائے باغوں کے مزدوروں سے ان کی ملاقات کو علامتی اور حکمتِ عملی دونوں لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس صنعت سے وابستہ ووٹروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔آسام دنیا کے بڑے چائے پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں لاکھوں مزدور ڈبروگڑھ، تن سوکیا اور جورہاٹ جیسے اضلاع میں کام کرتے ہیں۔ اس شعبے میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم اپنی انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی منصوبوں، فلاحی اقدامات اور چائے صنعت جیسے اہم شعبوں کے لیے مرکزی حکومت کی حمایت کو بھی اجاگر کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read