EC Announces By-Elections: الیکشن کمیشن نے کیا ضمنی انتخابات کا اعلان، بہار، گجرات اور مدھیہ پردیش کی تین اسمبلی نشستوں پر 30 جولائی کو ہوگی پولنگ
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست کانگریس کے رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں ریاستی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ راجیندر بھارتی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی رہنما نروتم مشرا کو شکست دی تھی۔
Return of Rangasamy-led NDA: پڈوچیری میں رنگاسوامی کی واپسی کے آثار، این ڈی اے کو برتری، تھٹانچاوڈی سیٹ سے وزیراعلیٰ آگے
اعداد و شمار کے مطابق آل انڈیا این آر کانگریس 9 سیٹوں پر آگے ہے، جبکہ اس کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی 2 سیٹوں پر برتری بنائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی اے ڈی ایم کے ایک سیٹ پر آگے ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کو محدود کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس، ڈی ایم کے اور اے ڈی ایم کے ایک-ایک سیٹ پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔
Assam Assembly Elections: آسام میں بی جے پی کی ہیٹ ٹرک، ہیمنت بسوا سرما کی حکمت عملی کامیاب، مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کے قریب
بنگلہ دیشی دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی جیسے حساس مسائل کو اٹھاتے ہوئے ہمینت بسوا سرما نے خود کو مقامی شناخت کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ مدارس کی بندش، زمین سے متعلق سخت پالیسیوں اور ثقافتی تحفظ کے بیانیے نے ہندو اور مقامی آسامیہ ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا، جس سے زبردست پولرائزیشن دیکھنے کو ملی۔
Tamil Nadu Election: ’’وجے ہار جائیں گے‘‘ افواہ سن کرنوجوان نے کی خودکشی کی کوشش، کاٹ ڈالا اپنی ہی گلا، انتخابی نتائج میں ٹی وی کے کو بڑی برتری
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کے اس دور میں افواہیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں، جو بعض اوقات خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔
UDF crossing majority mark: کیرالہ میں یو ڈی ایف کی واضح برتری، عوام نے فیصلہ کن مینڈیٹ دیا: جے بی ماتھیر
کیرالہ سمیت مغربی بنگال، تمل ناڈو، آسام اور پڈوچیری کے 823 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گنتی کا عمل پوسٹل بیلٹ سے شروع ہو کر ای وی ایم ووٹوں تک جاری ہے اور نتائج مرحلہ وار جاری کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان نتائج کا سلسلہ جاری ہے اور دن بھر میں سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
Whistling through Tamil Nadu: تمل ناڈو انتخابات میں تملگا ویٹری کژگم کی حیران کن برتری، ابتدائی رجحانوں میں 105 سیٹوں پر آگے
ابتدائی رجحانات میں ٹی وی کے نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پہلی ہی انتخابی شرکت میں 105 نشستوں پر برتری حاصل کر لی ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والا اتحاد 76 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ڈی ایم کے اتحاد 52 نشستوں کے ساتھ تیسرے مقام پر ہے۔
West Bengal Elections: مغربی بنگال انتخابات میں ووٹنگ کا تاریخی ریکارڈ قائم، 1951 سے اب تک کیسا رہا ہے رائے دہندگان کا مزاج
الیکشن کمیشن کے مطابق اب بھی ہزاروں پولنگ اسٹیشنوں کا ڈیٹا مکمل طور پر اپڈیٹ نہیں ہوا، جس کے باعث ووٹنگ کا فیصد مزید بڑھ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر مغربی بنگال میں اس بار کی ووٹنگ نے نہ صرف پرانے ریکارڈ توڑ دیے بلکہ جمہوری شرکت کے ایک نئے معیار کو بھی قائم کیا ہے، جو آنے والے انتخابات کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔
West Bengal Exit Polls: مغربی بنگال میں بی جے پی کو واضح اکثریت ملنے کا امکان، مختلف ایگزٹ پول میں بڑا دعویٰ
مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے اس بار اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ جہاں ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں، وہیں بی جے پی ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اب تمام نگاہیں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی کے بعد واضح ہوگا کہ آیا ایگزٹ پولس کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں اور مغربی بنگال میں اقتدار کس کے ہاتھ آتا ہے۔
Bengal elections: مغربی بنگال انتخابات کے دوسرے مرحلے میں شام 5 بجے تک تقریباً 90 فیصد ووٹنگ، انتخابی کمیشن کے مطابق ریکارڈ ٹرن آؤٹ
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پورب بردھمان ضلع 92.46 فیصد ووٹنگ کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ اس کے بعد ہگلی میں 90.34 فیصد، نادیہ میں 90.28 فیصد اور ہاوڑہ میں 89.44 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔
West Bengal Election: مغربی بنگال انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹنگ کا زبردست رجحان، 78.68 فیصد ٹرن آؤٹ، ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ
کچھ مقامات سے بدامنی کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم سکیورٹی کے سخت انتظامات اور مرکزی فورسز کی تعیناتی کے باعث مجموعی صورتحال قابو میں رہی۔ واضح رہے کہ تمام ریاستوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، جس کے بعد حتمی نتائج سامنے آئیں گے۔





