Urdu Conclave 2026

democratic participation

الیکشن کمیشن کے مطابق اب بھی ہزاروں پولنگ اسٹیشنوں کا ڈیٹا مکمل طور پر اپڈیٹ نہیں ہوا، جس کے باعث ووٹنگ کا فیصد مزید بڑھ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر مغربی بنگال میں اس بار کی ووٹنگ نے نہ صرف پرانے ریکارڈ توڑ دیے بلکہ جمہوری شرکت کے ایک نئے معیار کو بھی قائم کیا ہے، جو آنے والے انتخابات کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

تینوں خطوں میں ووٹنگ کے بعد اب سب کی نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومتوں کی تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقائی سیاست کے لیے اہم ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ان کے نتائج آنے والے سیاسی رجحانات کی سمت طے کر سکتے ہیں۔

دوسرے مرحلے کے دوران کشن گنج نے 66.10 فیصد پولنگ کے ساتھ سب سے آگے رہتے ہوئے تمام اضلاع کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد پورنیہ میں 64.22 فیصد، کٹیہار میں 63.80 فیصد، جموئی میں 63.33 فیصد اور بانکا میں 63.03 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق بہار میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران دوپہر ایک بجے تک مجموعی طور پر 42.31 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ 18 اضلاع میں ہونے والی پولنگ کے دوران گوپال گنج میں 46.73 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ درج ہوا، جبکہ لکھی سرائے میں 46.37 فیصد اور بیگوسرائے میں 46.02 فیصد ووٹنگ ہوئی۔