Bharat Express DD Free Dish

AIMIM Chief Asaduddin Owaisi On SIR: بی جے پی کا نیا ہتھیار ایس آئی آر، چھین لی جائے گی آپ کی شہریت… اسدالدین اویسی کا مرکز پر بڑا الزام

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی بی جے پی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایس آئی آر (SIR) کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق یقینی بنانے کی اپیل کی۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی بی جے پی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایس آئی آر (SIR) کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق یقینی بنانے کی اپیل کی۔ حیدرآباد میں پارٹی کے 68ویں یومِ تجدید کے موقع پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ بہار میں اس عمل کی تکمیل کے بعد اب اسے تلنگانہ اور مہاراشٹر میں بھی نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایس آئی آر کے نام پر ایسی کارروائی کی جا سکتی ہے جس کے تحت حقیقی بھارتی شہریوں، خصوصاً اقلیتوں اور دلتوں کے نام ووٹر فہرست سے خارج کیے جا سکتے ہیں، جس سے ان کی شہریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا، ”میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ جب ایس آئی آر کا عمل شروع ہو تو یہ یقینی بنائیں کہ تمام حقیقی نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوں۔ بی جے پی ایس آئی آر کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننا چاہتی ہے اور الیکشن کمیشن کے ذریعے ترامیم کرا کے ایسا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے“۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تلنگانہ کے انتخابی حکام کے مطابق ریاست میں ایس آئی آر عمل کے اعلان کا امکان رواں سال اپریل یا مئی میں ہے۔ اسدالدین اویسی نے الزام لگایا کہ اس طریقۂ کار کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شہری کا نام ووٹر فہرست سے ہٹا دیا جاتا ہے تو اس کے شہری حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو تاکید کی کہ متعلقہ افسران کی جانچ کے دوران مکمل تعاون کریں اور اپنے دستاویزات تیار رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

جلسے کے دوران اویسی نے تلنگانہ کے میڈارام جتارا، جو ایک قبائلی مذہبی تہوار ہے، میں پیش آئے ایک واقعے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلم پاؤ روٹی فروش کے ساتھ کچھ یوٹیوبرز کی جانب سے بدسلوکی کی گئی اور اس کے کام کو ’فوڈ جہاد‘ قرار دے کر ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔ اویسی نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تلنگانہ پولیس سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والی ایسی حرکتیں ناقابل قبول ہیں اور ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اویسی کے بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ بی جے پی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مجموعی طور پر رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ایس آئی آر کے نفاذ کو لے کر خدشات ظاہر کرتے ہوئے عوام کو بیدار رہنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مستعد رہنے کی تلقین کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read