Bharat Express DD Free Dish

Special Intensive Revision

سپریم کورٹ بدھ کے روز اُن عرضیوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کرانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ملک کی 16 ریاستوں اور 3 مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کی جانچ، تصدیق اور اپڈیٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں کو مزید شفاف، درست اور جامع بنانا ہے تاکہ ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درست طور پر شامل ہو سکے۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

یہ اقدام وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے دہلی روانگی سے قبل پارٹی کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گر دھاری یادو پر طویل عرصے سے پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف بیانات دینے اور مخالف دھڑے سے نزدیکی بڑھانے کے سنگین الزامات عائد تھے، جس کے بعد قیادت نے انہیں پارلیمانی سطح پر روکنے کا فیصلہ کیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی بی جے پی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایس آئی آر (SIR) کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق یقینی بنانے کی اپیل کی۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ جب ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور پوری ووٹر لسٹ کی ریویژن ہو گئی ہے تو پھر فارم 7 لینے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹر لسٹ پہلے ہی درست کی جا چکی ہے تو ووٹ کاٹنے کے لیے الگ سے فارم 7 کیوں استعمال کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر سخت حملہ بولتے ہوئے اسے ’واٹس ایپ کمیشن‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ ادارہ غیر مصدقہ ڈیٹا اور افواہوں کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ پوری مشق بنگال کے عوام کو دبانے اور ان کے جمہوری حقوق سلب کرنے کی سازش ہے۔

انتخابی قوانین کے تحت فارم-7 کا استعمال ووٹر فہرست میں کسی نام کی شمولیت پر اعتراض کرنے یا اسے حذف کرنے کی درخواست کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، کسی بھی نام کو ہٹانے سے قبل حکام کے لیے دعووں کی تصدیق کرنا اور متعلقہ فرد کو وضاحت کا موقع دینا لازمی ہے۔