Bharat Express DD Free Dish

ایس آئی آر پر 23 پارٹیوں کا چیف جسٹس آف انڈیا کو خط، ٹی ایم سی ایم پی ڈیرک اوبرائن کا دعویٰ- ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی نے بھی کئے دستخط

انڈیا الائنس کی اتحادی پارٹیوں نے ایس آئی آراورالیکشن کمیشن سے متعلق دیگرمسائل کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کوایک مشترکہ خط بھیجا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ 23 ​​پارٹیاں یقین کے اصول پرمضبوطی سے کھڑی ہیں۔

نئی دہلی: انڈیا الائنس کی اتحادی پارٹیوں نے ایس آئی آراورالیکشن کمیشن سے متعلق دیگرمسائل کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کوایک مشترکہ خط بھیجا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کے روز (30 جون) کویہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ 8 جون 2026 کوہوئی۔ اس میٹنگ میں 21 پارٹیوں اورایک آزاد ممبران نے شرکت کی اورمتفقہ طورپریہ فیصلہ لیا گیا تھا۔ حالانکہ خط کے مندرجات کی تفصیلات شیئرنہیں کی گئی ہیں۔

23 پارٹیاں یقینی اصولوں پرقائم

نئی دہلی میں منعقد ہونے والی 8 جون کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ چیف جسٹس کومشترکہ طورپرخط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب منگل کو23 پارٹیوں اورایک آزاد رکن کے دستخط والا یہ خط بھیج دیا گیا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں یقین کے اصول (یکجہتی، اتحاد اورعزائم) پرمضبوطی کے ساتھ کھڑی ہیں۔

خط میں ڈی ایم کے اورعام آدمی پارٹی کے بھی دستخط

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس خط پرڈی ایم کے اورعام آدمی پارٹی کے دستخط بھی ہیں۔ یہ دعویٰ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خط پرڈی ایم کے اورعام آدمی پارٹی کے بھی دستخط ہیں۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ 8 جون کواپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ اس اجلاس میں تمام جماعتوں نے متفقہ طورپرپانچ امورپراتفاق کیا تھا۔ ایک پریس کانفرنس میں کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ ختم ہوگئی ہے۔ اس میٹنگ میں 25 پارٹیوں نے حصہ لیا۔

اس میٹنگ کے دوران سب نے اپنے خیالات کا اظہارکیا اوربالآخرہم پانچ نکات پرمکمل اتفاق کرگئے۔ ہم نے ان مسائل پرلڑنے، کام کرنے اورآگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “پہلے، ہم نے ای وی ایم، ووٹ کی چوری اورانتخابی دھاندلی کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کوخط لکھنے پراتفاق کیا ہے۔ یہ خط انہیں جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ دوسرا، ہم نے متفقہ طورپروزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے نیٹ اورسی بی ایس ای امتحانات میں شرکت کرنے والے لاکھوں طلباء کودھوکہ دیا ہے۔”

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read