Urdu Conclave 2026

Seyed Abbas Araghchi

خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حملے کے معاملے پر تہران میں یوکرین کے ناظم الامور (Chargé d'Affaires) کو طلب کیا گیا

ڈونلڈ ٹرمپانہوں نے امریکہ کو "آبنائے ہرمز کا محافظ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بحری راستہ امریکی نگرانی میں دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے والے جہازوں اور ایرانی یوزر کو اس راستے کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق، جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی ’موت طے ہے‘۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی کی بدولت لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں عائد ناکہ بندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوج کو یہ نقصان ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران اٹھانا پڑا۔ یہ 40 روزہ امریکی-اسرائیلی فضائی مہم تھی، جو 28 فروری 2026 سے ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی۔

بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔