نئی دہلی: ترکی اور قطر کے سینئر حکام شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والے باغی گروپ کے لیڈران سے بات چیت کے لیے دمشق پہنچ گئے ہیں۔ یہ اطلاع شام کی عبوری وزارت اطلاعات نے دی ہے۔
سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق، ترک وفد میں وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن شامل تھے، جب کہ قطر کی نمائندگی اسٹیٹ سیکیورٹی سروس کے سربراہ خلفان بن علی بن خلفان البطی الکعبی نے کی۔ وزارت کے ایک بیان کے مطابق، دونوں وفود میں ایک “مشاورتی ٹیم” بھی شامل تھی۔ حکام کی ملاقات حیات تحریر الشام گروپ کے لیڈر ابو محمد الجولانی سے ہونے والی ہے، جنہوں نے بشار الاسد کو اقتدار سے محروم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ترکی اور قطر کے سینئر حکام عسکریت پسند لیڈر محمد البشیر سے بھی بات چیت کریں گے جو اب باغی اتحاد کی طرف سے مقرر کردہ عبوری وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وزارت نے کہا کہ توقع ہے کہ بات چیت باغی گروپوں کے درمیان اندرونی سیاسی بات چیت کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے گی۔ ترکی یا قطر کی حکومت کی جانب سے اس دورے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ فیدان نے پہلے کہا تھا کہ حالات سازگار ہونے پر انقرہ دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ترکی نے 26 مارچ 2012 کو شام کے دارالحکومت میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا اور بشار الاسد سے بڑھتے ہوئے تشدد اور 2011 میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کے درمیان اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ اسد حکومت کا تختہ پلٹنے والے عسکریت پسند گروپوں کی حمایت کرنے والے ایک خبر رساں ادارے ساؤت العاصمہ کے مطابق شام کے آئین اور پارلیمنٹ کو مبینہ طور پر تین ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کے روز شام کی ملٹری آپریشنز ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا تھا کہ اس نے دمشق اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پہلے سے نافذ کرفیو کو ہٹا دیا ہے اور رہائشیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کریں اور اپنے کام کی جگہوں پر واپس جائیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
