Bharat Express DD Free Dish

Mallikarjun Kharge

آج اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔

کانگریس رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کا وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب پیدل مارچ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ راجیہ سبھا میں قائدحزب اختلاف اور کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے کو سالگرہ کی دلی مبارکباد۔ انہوں نے پرارتھنا کی کہ بھگوان انہیں طویل عمر، بہترین صحت اور خوشگوار زندگی عطا فرمائے۔

مانسون سیشن کے دوسرے دن بھی پارلیمنٹ میں خوب ہنگامہ ہوا۔ پیپرلیک پر بحث کا مطالبہ اور طلبا پرہوئے لاٹھی چارج سے متعلق اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں میں حکومت کو گھیرا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے نے مائیک بند کرنے کا الزام لگایا۔

کھڑگے نے وزیراعظم کے لہجے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے سربراہ کو سیاسی طعنوں کے بجائے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی کا واحد کام دوسروں پر طنز کرنا اور طنزیہ تبصرے کرنا رہ گیا ہے۔ پہلے عوام کے سامنے اپنی ساکھ ثابت کریں۔ آپ کا وہ ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں گیا؟ آج آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ملک کے لیے آخر کیا کیا ہے؟‘‘

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران، پیرکو اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے نیٹ پیپرلیک ہونے اور رام مندر چڑھاوا چوری کے مسائل پر لوک سبھا میں ہنگامہ کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اس دوران راجیہ سبھا میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے طلبا پرلاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھایا۔

کانگریس تنظیم میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی خبرہے۔ ذرائع کے مطابق، چار جنرل سکریٹریوں کی چھٹی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ تین سے 4 ریاستوں کے ریاستی صدر بھی تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔

 پنجاب کانگرس میں تنظیم میں تبدیلی سے متعلق پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے کی بنائی گئی کمیٹی نے کانگریس ہائی کمان کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے تقریباً 70 لیڈران سے بات چیت کرکے ان کی رائے معلوم کی ہے۔ اب ہائی کمان کی طرف سے اسے عوامی کیا جائے گا اور نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

کھڑگے نے کہا کہ راہل گاندھی نے ہمیشہ معاشرے کے کمزور، محروم اور پسماندہ طبقات کی آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کی ہم آہنگی، سماجی انصاف، برابری اور ہمدردی کی روایات راہل گاندھی کی قیادت اور عوامی زندگی میں نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ مرکز کو موجودہ معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور عوامی مفاد سے جڑے دیگر معاملات پر فوری طور پر آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہیے۔