Bharat Express DD Free Dish

Mallikarjun Kharge

راہل گاندھی نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ہوئی سبھا کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے شدھی کرن کے معاملے کو بھی اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت سے کئی سوالات کیے۔ انہوں نے کہا کہ تہواروں سے پہلے چینی کی مٹھاس میں مودی حکومت کی پالیسیوں کی کڑواہٹ گھل گئی ہے۔ ملکارجن کڑگے نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے بڑے چینی پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں شامل بھارت میں چینی کا اسٹاک 9 سال کی کم ترین سطح پر کیوں پہنچ گیا ہے؟ا

کھڑگے نے بی جے پی پر مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے ہلدوانی میں اپنی سیاسی ریلی کے بعد مبینہ طور پر مقام کی ’شدھی کرن‘ کرائے جانے کے معاملے پر سخت اعتراض کیا۔الزام ہے کہ 8 اگست کو کھڑگے کی ریلی کے دو دن بعد 10 اگست کو شری رام سینا نے اسی مقام پر گنگاجل کا چھڑکاؤ کیا اور ہون کیا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی تنازع پیدا ہوگیا۔ کانگریس لیڈروں  نے الزام لگایا کہ یہ دلتوں کے خلاف امتیازی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کے فصیل سے 80ویں یوم آزادی تقریب میں ملک کو خطاب کیا۔ وہیں اس بار بھی کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سابق صدر اور ایم پی راہل گاندھی نے شرکت نہیں کی۔

ملکارجن کھڑگے نے کہا ’وہ پارلیمنٹ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب وزیراعظم خود اندر نہیں آ رہے، جب وزیر داخلہ نہیں آ رہے اور کہتے ہیں کہ ’میں اندر تھا، میں سن رہا تھا‘ تو کیا آپ یہاں اپنے کمرے میں بیٹھنے اور سننے آتے ہیں؟ ایوان میں آئیں اور ہماری بات سنیں۔‘

شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس کے صدر گریش پانڈے اور پنڈت موہن شاستری نے کہا کہ ریلی کے بعد رام لیلا میدان میں شدھی کرن ہَون کیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ ریلی کے دوران مذہبی نعروں اور تبصروں سے میدان کی پاکیزگی متاثر ہوئی ہے۔

کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کانگریس شروع سے کہتی رہی ہے کہ ملک میں دلتوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متعدد اپوزیشن جماعتوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا تھا کہ پارٹی اس بل کی شدید مخالفت کرے گی اور ’’حکومت اس طرح کے بل کو زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ یہ بل غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد غیر ملکی عطیات کے ضابطے میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

کرن رجیجو نے یہ بھی واضح کیا کہ چیئرمین نے حکومت کو صرف اپوزیشن کے مطالبے اور جذبات سے آگاہ کیا تھا، کسی وزیر کو ایوان میں آنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اس کے ارکان ایوان میں ہنگامہ کرنے کے بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں۔

کھڑگے کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار پیدا ہوگا۔ انہوں نے کھڑگے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں منوسمرتی کی اصل مستند نقل پیش کریں۔