Bharat Express DD Free Dish

Mallikarjun Kharge

سیاسی مبصرین کے مطابق بی کے ہری پرساد کو پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان ایک متوازن اور غیر جانبدار شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں کانگریس ہائی کمان کی پسندیدہ قیادت میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تقرری کو ریاستی تنظیم میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تقریب میں ملیکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، کے سی وینوگوپال اور رندیپ سنگھ سرجے والا سمیت کانگریس کے کئی سینئر لیڈران کی شرکت متوقع ہے۔ اس تقریب میں مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، نائب وزرائے اعلیٰ، پردیش کانگریس کمیٹیوں کے صدور، ارکانِ پارلیمان اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈران بھی شرکت کریں گے۔

دہلی پہنچنے کے بعد سدارمیا نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں کھڑگے سدارمیا کے کندھے پر ہاتھ رکھے نظر آ رہے ہیں۔ادھر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تین نائب وزرائے اعلیٰ بنانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے عوام کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے محبت اور بھائی چارے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ عیدالاضحیٰ کے مقدس موقع پر آپ سب کو دلی مبارکباد۔

اوڈیشہ کے گورنر نے بھی سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے بھارت کے پہلے وزیر اعظم کو یاد کیا۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے لکھا کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم، آنجہانی جواہر لعل نہرو جی کو ان کی برسی پر خراجِ عقیدت۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی پارلے بسکٹ اور چاکلیٹ کے اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں، لیکن ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے معاملے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔

حلف برداری کی تقریب صبح 10 بجے ترواننت پورم کے سینٹرل اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی، جہاں سیاسی لیڈروں، سرکاری حکام اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔وی ڈی ستیشن کی حلف برداری تقریب میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئیں۔

کانگریس کے صدر سنی جوزف نے ووٹروں اور پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، “کیرالہ کے عوام کا شکریہ۔ اے آئی سی سی کے تمام اراکین کا شکریہ جنہوں نے ہماری مدد کی، اور ان سب کا شکریہ جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی تقریر کے دوران مودی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا دیا۔

بیان پر بڑھتے تنازعہ کے بعد کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد وزیر اعظم کو دہشت گرد کہنا نہیں تھا بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ وزیر اعظم سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن لیڈروں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔