Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024: وقف بل پرکس کے ساتھ ہیں اجیت پوار؟ لوک سبھا میں ووٹنگ کے بعد بھی تعطل برقرار

وقف ترمیمی بل، 2024 پربدھ کولوک سبھا میں ووٹنگ ہوئی۔ بل کے حق میں 288 ووٹ پڑے تومخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ووٹنگ کے بعد بھی اجیت پوار کی پارٹی این سی پی کا رخ سامنے نہیں آیا ہے۔

اجیت پوار کی این سی پی نے وقف ترمیمی بل سے متعلق اپنا موقف اب تک واضح نہیں کیا ہے۔

نئی دہلی: وقف ترمیمی بل، 2024 لوک سبھا سے پاس ہوچکا ہے۔ بدھ کو نچلے ایوان میں ہوئی ووٹنگ میں 288 اراکین پارلیمنٹ نے بل کے حق میں تو 232 اراکین پارلیمنٹ نے مخالفت میں ووٹ کیا۔ حالانکہ ووٹنگ کے بعد بھی این ڈی اے کی اتحادی اجیت پوارکی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کا رخ سامنے نہیں آیا۔ اس کے اراکین پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے پارٹی کا رخ بتائے بغیرہی ووٹنگ کی۔ اس سے وقف ترمیمی بل پراس کے رخ پرتعطل بنا ہوا ہے۔

جب سبھی پارٹیوں کو لوک سبھا میں اپنی بات رکھنے کا موقع ملا، تو اجیت پوارکی پارٹی نے اپنی رائے کیوں نہیں رکھی؟ یہ سوال اب اٹھنے لگا ہے۔ این سی پی کواسمبلی الیکشن میں مسلم رائے دہندگان نے بڑی تعداد میں ووٹ دیا تھا۔ حسن مشرف، صبا مالک یہ وہ مسلم لیڈران ہیں، جو این سی پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیت کراسمبلی پہنچے ہیں۔

این سی پی ظاہرکرچکی ہے تشویش

این سی پی اس سے پہلے بل پرتشویش ظاہرکرچکی ہے۔ این سی پی سربراہ اجیت پوار نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی مسلمانوں کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہونے دے گی۔ اجیت پوار نے کہا تھا کہ این سی پی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگرآپ کو (مسلمانوں کو) اس بل کے بارے میں کوئی تشویش ہے تو ہم آپ کی تشویش کو سنیں گے۔ ہم اقلیتوں کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تین اراکین پارلیمنٹ ہیں اور یہ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔

10 گھنٹے سے زیادہ کی بحث کے بعد بل ہوا منظور

لوک سبھا میں بدھ کو بل پرتقریباً 13 گھنٹے بحث ہوئی۔ بحث کے بعد دیر رات تقریباً 2 بجے بل کو منظورکیا گیا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ جس میں وقف املاک کے نظم ونسق میں یکسانیت، شفافیت اورجوابدہی کو یقینی بنانے کے مقصد سے دیر رات تقریباً 2 بجے بل کو پاس کیا گیا۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے ایوان میں وقف ترمیمی بل پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے حکومت کے اس قدم کومسلم مخالف بتانے والے اپوزیشن اراکین کے دعووں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے والا بتایا جا رہا ہے جبکہ حکومت اس کے ذریعہ شیعہ، سنی سمیت سبھی طبقات کو ایک ساتھ لا رہی ہے۔ کرن رجیجو کے جواب کے بعد ایوان نے دیگراپوزیشن اراکین کی ترامیم کو خارج کرتے ہوئے 232 کے مقابلے 288 ووٹوں سے وقف (ترمیمی) بل کو منظورکیا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read