Bharat Express DD Free Dish

Israel

سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ ’’اسرائیل کی اس جارحانہ کارروئی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘

میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری پر اسرائیل کا بلا اشتعال حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘

اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں نمایاں طور پر کشیدگی بڑھ گئی اور طویل عرصے سے چلے آ رہے دو حریفوں کے درمیان وسیع تر تنازعے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ حملے تہران کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے خدشات اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے مبینہ خطرے کے درمیان ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران پر فضائی حملہ کیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’قبل از وقت حملہ‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس آپریشن کو ’اپنے وجود کے لیے ایرانی خطرے کو کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ فوجی آپریشن‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے، جنہوں نے اسے ’قبل از وقت حملہ‘ قرار دیا ہے جس کا مقصد خطرات کو بے اثر کرنا ہے۔ کاٹز نے قومی تیاری اور شہری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پورے اسرائیل میں ہنگامی صورت حال کا اعلان بھی کیا ہے۔

سفارت خانے نے ہندوستانی شہریوں کو سرکاری چینلز کے ذریعے اپ ڈیٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مشن کے ساتھ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا۔ یہ ایڈوائزری اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ایران پر اس کے قبل از وقت حملے کے بعد خصوصی ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔ صورت حال بدستور غیر مستحکم ہے۔ تہران میں دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔ اسرائیل بھر میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

سویڈش ماحولیاتی اور انسانی حقوق کی کارکن گریٹا تھنبرگ منگل کے روز اسرائیل سے ڈی پورٹ ہو کر پیرس کے چارلس ڈی گال ایئرپورٹ پہنچ گئی ہیں۔

اسرائیلی کنیست ممبر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے، جس میں صرف پانچ دنوں میں کم از کم 378 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز شام کے دارالحکومت دمشق میں صدارتی محل کے نزدیکی علاقے کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نے شام کی حکومت کو دھمکاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شامی حکومت دروز کے قبائل کو تحفظ دینے میں ناکام رہی تو اس کے نتائج …

رونین بار نے کہا کہ وہ جون میں استعفیٰ دے دیں گے کیونکہ ان کی ایجنسی 7 اکتوبر 2023 کو ہوئے حماس کے حملوں کے بارے میں پیشگی انتباہ کرنے میں ناکام رہی تھی۔